تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 23 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 23

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 19 خلیفتہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) میں سے تھے۔درہ نارنجی بونیر میں مدفون ہیں۔TA 2 حضرت قاضی عبدالرحمن شاطر مدراسی : یہ بھی اکابر اولیاء میں سے تھے۔مگر افسوس ان کے حالات پر کتابوں سے روشنی نہیں پڑتی۔المختصر آپ کے اجداد میں اولیاء علماء محد ثین، بادشاہ ، صوفی، قاضی شہید ہر طبقہ کے بزرگ گذرے ہیں اور آپ کا خاندان ہمیشہ ہی ایک ممتاز شان کا حامل رہا ہے۔یاغستان میں آپ کے افراد خاندان آج تک شہزادے کہلاتے ہیں۔اور بھیرہ میں جو آپ کا آبائی وطن ہے آپ کے خاندان کو ابتدای سے حددرج ما سے حد درجہ عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔حضرت خلیفۃ اصحیح اول تحریر فرماتے ہیں: گرچه خوردیم نسبت است بزرگ یہ خاکسار قریشی فاروقی ہے۔میرا سلسلہ نسب حضرت عمر سے پھر حضرت شعیب سے ملتا ہے۔جو کابل سے پشاور اور وہاں سے لاہور پھر قصور پھر کتنے وال علاقہ بہاولپور میں مقیم ہوئے قاضی عبدالرحمن امر مدراسی بابا نارنجی مقیم یا غستان اسی سلسلہ کے ممتاز ہیں۔حضرت فرید شکر رحمتہ اللہ کے والد اور میرے جد امجد دونوں حقیقی بھائی تھے۔یہ قصہ طویل ہے۔بھیرہ ضلع شاہ پور میرا وطن تھا۔وہاں صدیقی قریشیوں کا ایک بڑا محلہ ہے۔نورالدین " والد بزرگوار آپ کے والد حضرت حافظ غلام رسول صاحب ، متہ اللہ علیہ اپنے زمانہ کے نهایت متدین منی المذہب اور حنفی مشرب بزرگ تھے اور سلسلہ چشتیہ سے تعلق رکھتے تھے قرآن مجید سے ان کو خاندانی روایات کے مطابق خاص عشق تھا اور قرآن مجید کی ترویج و اشاعت ہی ان کی زندگی کا سب سے محبوب مشغلہ تھا kal ہزاروں روپے کے قرآن شریف خریدتے اور ملک کے اطراف میں ان کو پھیلا دیتے تھے۔بمبئی کے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ میں تمہیں ہزار روپیہ کے قرآن شریف خرید کر بھیرہ گیا جہاں آپ نے وہ سب کے سب خرید لئے مجھ کو اس میں منافع عظیم ہوا۔پھر دوبارہ اسی طرح ہزاروں ہزار کے قرآن شریف خرید کے لے جاتا تھا۔قرآن مجید سے ندائیت کا یہ عالم تھا کہ جب حضرت خلیفہ اول کی بڑی بہن کی شادی ہوئی تو آپ نے جہیز میں سب سے اوپر قرآن شریف رکھ دیا اور فرمایا۔ہماری طرف سے یہی ہے۔اس قرآن شریف کا کاغذ حریری اور باریک بڑی محنت اور صرف زر سے میر ہوا۔مولوی نور احمد صاحب جلالپور جٹاں نے سو روپیہ صرف لکھنے کا نذرانہ لیا- جدول - رول - آیات کی علامات لکھنا۔رنگ بھرنا سونے کے پانی پھیرنے کے اخراجات اس کے عاادہ تھے۔aa -