تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 22
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 18 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) فرماتے تھے کہ آپ علم کی کنجی ہیں۔حضرت امام اعظم آپ کو سید نا کہا کرتے تھے۔خرقہ ولایت حضرت فضل عیاض سے پہنا تھا۔آپ سے کرامات کا اس درجہ ظہور ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔۲۸/ اگست ۷۲۸ ء کو 110 سال کی عمر میں وفات پائی۔مزار مبارک جبلہ (شام) میں ہے۔یہ خیال شہزادہ داراشکوہ کا بعض آپ کی قبر بغداد شریف میں بتاتے ہیں اور بعض شام میں انگر حضرت فرید الدین عطار کے نزدیک کوئی خیال درست نہیں آپ کی قبر کسی نامعلوم جگہ پر ہے۔حضرت خواجه سلطان محمود نشیمان شاه : آپ نے حکومت بلخ میں نواحی کابل کو بھی فتح کر لیا۔ZJ حضرت شاہ سلطان نصیر الدین : بلخ کا شہر چھوڑ کر آپ کابل میں قیام پذیر ہو گئے آپ کے ایک بیٹے حضرت احمد فرخ شاہ بھی تھے۔حضرت احمد فرخ شاہ کابلی : "سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ بادشاہ کابل تھے مگر جب غزنی حکومت کا زور بڑھا تو آپ کی سلطنت بھی اس میں مدغم ہو گئی لیکن آپ کے فرزند کابل ہی میں رہے۔آخر اسی دوران میں چنگیز خان نے خروج کر کے ایک عالم کو زیر و زیر کیا۔اور سلطنت کابل کا تختہ بھی الٹ گیا۔حضرت احمد فرخ شاہ کابلی بخراب میں درہ فرخ شاہ واقع بخراب کو ہ دامن میں مدفون ہیں آپ کا روضہ مرجع عام و خاص ہے۔حضرت شهزاده خواجہ احمد شهید: حضرت خواجہ یوسف کے فرزند تھے تاتاری فوج کے حملہ میں شہید ہو گئے اور حکومت پر تاتاری قابض ہو گئے۔kia ** حضرت شہزادہ قاضی شعیب : حضرت خلیفہ المسیح اول ﷺ کے جد اعلیٰ جو سلطان شہاب الدین غوری کے زمانہ میں اپنے اہل و عیال سمیت کابل سے ہجرت کر کے پہلے پشاور آئے 2 پھر لاہور سے قصور پہنچے۔یہ ۵۹۹ھ مطابق ۱۲۰۳ء کا واقعہ ہے قاضی قصور نے ان کی بہت خاطر مدارات کی اور بادشاہ وقت کو ان کی آمد کی اطلاع دی۔بادشاہ نے ملتان کے قریب ایک قصبہ کتنے وال یا کھو توال) میں ان کو قاضی مقرر کر دیا اور قصبہ پاکپٹن مع نواحی بطور جاگیر عنایت کی۔آپ رہیں مقیم ہو گئے اور اسی جگہ وفات پائی اور دفن ہوئے۔حضرت خواجہ ولی اللہ المعروف نارنجی باباً : آپ جہا نگیر بادشاہ کے زمانہ کے اولیاء