تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 405 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 405

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 397 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب حوالہ کتاب بشرى الكتيب بلقاء الحبیب " (امام سیوطی) میں موجود ہے۔اس ٹریکٹ میں آپ نے بڑے زور دار الفاظ میں تحریر فرمایا۔یہ تو ہم ثابت کر ہی چکے ہیں کہ یہ حدیث قطعار سول اللہ تک پہنچنی ثابت نہیں۔۔۔اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح حدیثوں کے خلاف ہے چنانچہ صحیح مسلم میں ہے " قال رسول اللہ صلی الله عليه وسلم انا سيد ولد آدم يوم القيامة واول من ينشق عنه القبر "۔(جلد دوم کتاب الفضائل) اس حدیث سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کو دیگر انبیاء و اولیاء پر جو فضیلتیں دی گئی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی قبر سب سے پہلے کھلے گی۔اگر اس فضیلت میں کسی کو آپ کے شامل کر دیا گیا تو جائز ہو تاکہ دوسری خصوصیات میں بھی دوسرے لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور وہ بنی آدم کے سردار کا لقب پائیں۔افسوس کہ اب اسلام کی حقیقت یہ باقی رہ گئی ہے کہ ایسے بھی مسلمان ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی کوئی خصوصیت پسند نہیں کرتے آپ خاتم النبین تھے لیکن۔۔۔حضرت مسیح کو انیس سو برس کے بعد کھینچ بلایا۔اب جو آخر میں آئے گاوہ خاتم النبین ہو گا۔۔۔۔۔اب ایک خصوصیت آپ کی قبر کی تھی وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکے۔اور لا کر مسیح کو بھی آپ کی قبر میں داخل کر دیا تاکہ جب سب سے پہلے رسول کریم ﷺ کی قبر کھلے تو مسیح بھی اس فضیلت میں شامل ہوں۔کاش عام مسلمان ہی غور کرتے کہ ان کے علماء ان کو کس راہ پر چلا رہے ہیں۔آخر میں آپ نے علامہ سیوطی کی کتاب "بشری الکتیب بلقاء الحبیب" کے حوالہ اور قرآن شریف کی بعض آیات سے ثابت کیا کہ قبر سے مراد صرف مٹی ہی کی قبر نہیں بلکہ اس سے کوئی ایسا مقام مراد ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی خود اپنے خاص اذن سے داخل کرتا ہے پس خلاصہ یہ کہ مولوی حافظ محمد یوسف نے جو حدیث پیش کی وہ قطعا علم حدیث کی رو سے ثابت نہیں اور بفرض محال اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی قرآنی آیات اور دیگر حدیثوں سے اس حدیث کے معنے بالکل صاف ہو جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے وسط ۱۹۱۲ء میں سفر لا ہور اختیار فرمایا حضرت خلیفہ اول کا سفر لاہور جو آپ کے دور خلافت کا آخری سفر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش و میر ہاؤس سے وعدہ فرمایا تھا کہ ان کے مکان کا سنگ بنیاد ہم رکھیں گے۔چنانچہ جب شیخ صاحب بنیا د رکھنے کی درخواست لے کر حاضر ہوئے تو آپ نے فورا منظور فرمالیا۔کیونکہ آپ کے نزدیک اپنے پیارے آقا کے منہ سے نکلی ہوئی بات ضرور پوری کرنی