تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 404 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 404

396 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہندو عرب دوسرے احباب جماعت نے پرجوش استقبال کیا اور مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا۔حضرت صاجزادہ صاحب نے یہاں بھی ایک مختصری تقریر فرمائی۔آخر مولوی صاحب نے بادیدہ گریاں رخصت کیا۔۲۳ / اپریل ۱۹۱۲ء کو وفد دہلی پہنچا اور مدرسہ حسنین بخش، عبد الرب اخیہ اور فتح پوری کے مدارس دیکھے۔۲۵/ اپریل ۱۹۱۲ء کو دارالعلوم دیو بند دیکھنے کے لئے گئے۔جمیعتہ الانصار کے سیکرٹری مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کے ذریعہ سے دیوبند کے مہتمم مولوی محمود الحسن صاحب (۱۹۲۰-۱۸۵۱) مولوی بشیر احمد صاحب اور دوسرے بزرگ علماء سے ملاقات ہوئی اور مدرسہ کا معائنہ کرنے اور پر رسہ کے متعلق تمام ضروری معلومات حاصل کرنے کا موقعہ ملا۔ناظم مدرسہ (مولوی محمد احمد صاحب خلف الرشید حضرت مولانا محمد قاسم صاحب) بے حد اخلاق و مروت سے پیش آئے اسی طرح مولوی بشیر احمد صاحب بھی !! مگر بعض حضرات نے اپنے جوش تعصب میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو قتل تک کی دھمکی دے ڈالی۔دیو بند میں ایک احمدی میاں فقیر محمد صاحب بھی ملے۔دیوبند کی عظیم اسلامی درسگاہ دیکھنے کے بعد آپ اپنے ساتھیوں سمیت سہارنپور تشریف لے گئے اور مشہور مدرسہ مظہر العلوم کا معائنہ کیا۔مولوی عنایت الہی صاحب مہتمم مدرسہ جو ایک خوش اخلاق بزرگ تھے۔آخر تک ساتھ رہے اتفاق سے حافظ عبد المجید صاحب منصوری آئے ہوئے تھے انہوں نے پورے وفد کو پر تکلف کی پارٹی دی۔سیار پور سے فارغ ہو کر وفد ۲۸/ اپریل ۱۹۱۲ء کی شام کو ہردار پنجر سے روانہ ہوا اور اگلے دن ظہر سے قبل قادیان پہنچ گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نہایت خوشی اور مسرت سے ملے۔رات کو پورے وفد کی ضیافت فرمائی اس خوشی کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح کو وفد کی طرف سے روزانہ اطلاعات بھجوائی جاتی تھیں مگر اتفاق کی بات ہے کہ آپ کو کئی روز تک کوئی اطلاع نہ مل سکی۔لہذا آپ کو از حد تشویش ہوئی۔جس پر آپ نے پہلے تار دیا اور پھر چو ہدری فتح محمد صاحب سیال کو دہلی بھیجوایا۔جواب اشتهار جناب غلام سرور صاحب کانپوری" کانپور کے کسی صاحب غلام سرور صاحب نے اشتہار دیا که حافظ روشن علی صاحب مدرسہ جامع العلوم میں بحث کے دوران لاجواب ہو گئے اور حافظ مولوی محمد یوسف صاحب کے سوالوں کے جواب سے قاصر رہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس اشتہار کے جواب میں ایک ٹریکٹ لکھا اور اس میں پورا واقعہ پبلک کے سامنے رکھا اور اس حدیث کا حوالہ بھی شائع کیا۔جس کا وعدہ حضرت حافظ صاحب نے کیا تھا۔اور جس پر بحث کا دارومدار تھا۔آپ نے بتایا کہ یہ