تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 406 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 406

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ چاہئے تھی۔398 حضرت مرزا بشیر الدین محمود د احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب حضرت خلیفہ اول ۱۵ جون کو قادیان سے لاہور تشریف لائے آپ کے ہمراہ آپ کے اہل بیت اور صاحبزادگان کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت میاں بشیر احمد صاحب حضرت میاں شریف احمد صاحب، حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور بعض دوسرے خدام بھی تھے۔لاہور اسٹیشن پر احباب جماعت نے پر جوش استقبال کیا۔مہمان احمد یہ اللہ نگس میں ٹھرے اور حضرت خلیفتہ المسیح اول کا قیام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے مکان پر تھا۔اسی دن شام کو شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان کے سنگ بنیاد کی تقریب عمل میں آئی۔سب سے پہلے حضرت خلیفہ اول نے ایک پر معارف تقریر فرمائی۔جس میں قرآنی آیت ا فمن اسس بنیانه على التقوى (سورۃ توبہ) کی لطیف تغییر فرمائی اور بالاخر فرمایا کہ ہم اس وقت حضرت صاحب کے خاندان کے پانچ آدمی موجود ہیں۔(یعنی خود حضرت خلیفہ المسیح اول حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب حضرت نواب محمد علی خان صاحب) میں دعا کر کے ایک اینٹ رکھ دیتا ہوں۔میرے بعد صاحبزادگان اور نواب صاحب ایک ایک اینٹ رکھ دیں۔آپ نے پہلے ہی سے صاحبزادگان کو بلا کر اپنے پاس کھڑا کر لیا تھا۔اور حضرت نواب صاحب کو جو پیچھے کھڑے تھے آگے آنے کی ہدایت فرمائی۔پھر چار کرسیاں لانے کا حکم دیا اور ان چاروں کو اپنے سامنے بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔ان کو بیٹھنے میں بہت تردد تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح کھڑے ہیں مگر آپ نے فرمایا۔میں تو تمہاری خدمت کرتا ہوں اور تمہارا ہی کام کر رہا ہوں۔تمہارے باپ کی جو میرا محسن اور آتا ہے میرے دل میں بڑی عظمت ہے آپ بیٹھ جائیں "۔چنانچہ یہ بزرگ بیٹھ گئے اس کے بعد آپ نے تقریر کر کے اپنے دست مبارک سے بنیادی اینٹ رکھی۔اور آپ کے خصوصی حکم سے ان بزرگوں نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی۔ازاں بعد آپ نے حاضرین سمیت دعا فرمائی اور ایڈیٹر صاحب الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ شیخ صاحب سے کہہ دیں۔ہم خدا تعالٰی کے فضل سے حضرت صاحب کے وعدہ کو پورا کر چکے۔اب ہم آزاد ہمیں خواہ صبح جائیں یا شام کو شیخ صاحب نزدیک ہی کھڑے تھے یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور نہایت رقت بھرے لہجہ میں عرض کیا کہ جو غلام ہو ا سے آقا کو آزاد کرنے کی کیا جرات ؟ آپ نے فرمایا مجھے قادیان