تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 381
ربیت - جلد ۳ 373 انجمن انصار اللہ کا قیام حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں یہ ذکر آیا کہ مولوی محمد حضرت خلیفہ اول کا اعلان حق حسین صاحب بٹالوی نے لکھا ہے۔کہ اگر احمدی مرزا صاحب کو نبی کہنا چھوڑ دیں تو ہم کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے۔آپ نے فرمایا۔" ہمیں ان کے فتویٰ کی کیا پروا ہے اور وہ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں؟ جب سے مولوی محمد حسین نے فتویٰ دیا ہے۔وہ دیکھے کہ اس کے بعد آج تک اس کی عزت کہاں تک پہنچ گئی ہے اور مرزا صاحب کی عزت نے کس قدر ترقی کی ہے۔اپریل 1911 ء کے آخری ہفتہ میں جماعت احمدیہ بنارس کا جلسہ منعقد ہوا۔جس میں جلسہ بنارس حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی حضرت میر قاسم علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب نے تقریریں کیں۔مفتی محمد صادق صاحب کی تقریر تحفہ بنارس " کے نام سے بعد میں کتابی شکل میں بھی چھپ گئی۔حضرت میر صاحب اور مولوی را جیکی صاحب نے مہاراجہ صاحب بنارس ( ہزہائی نس سر پر بھو نارائن سنگھ بہادر جی۔سی۔آئی - ای ) کی کوئی میں بھی لیکچر دیئے۔جماعت سونگھیر نے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں تار دیا۔کہ مبلغین کو مونگھیر کے جلسہ میں پہنچنے کی بھی اجازت دی جائے۔حضور نے خواجہ صاحب کے سوا سب کو اجازت دے دی مگر بعض مجبوریوں کے باعث صرف حضرت مولوی سرور شاہ صاحب اور حضرت مفتی صاحب ہی وہاں جا کر لیکچر دے سکے۔اس سفر میں کئی لوگوں نے بیعت کی۔ایک احمدی مولوی صاحب نے کفر اور مکذب مولویوں کے مکفرین سے نیکی کی تلقین ہاتھوں تنگ آکر حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں خط لکھا کہ یہ مکذبین بھی تو کافر ہیں کیوں نہ ایسا کیا جاوے کہ ہماری جماعت کے مولوی صاحبان ان کے حق میں ایک کفر کا فتویٰ ان پر مہریں تیار کر کے شائع کردیں۔حضرت نے فرمایا ان کو لکھ دو کہ آپ ان مخالفین کے ساتھ بھی نیک سلوک کرتے رہیں اور ان کے حق میں دعا کرتے رہیں اور ان کے ساتھ حتی الوسع نیکی کرتے رہیں وہ برا کہیں تو آپ خاموش رہیں۔اللہ تعالٰی آپ کو فتح مند کرے گا۔نکته معرفت ایک شخص کا خط حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں مقروض ہو گیا ہوں۔آپ کے بڑے بڑے مرید ہیں مجھے بہت سارو پید ان سے دلا دیں۔فرمایا