تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 380
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 372 الجمن انصار اللہ کا قیام وقت کوئی چیز نہیں ہے۔ہم پر افسوس ہو گا کہ دوسرے مسلمان تو ہمارے امام اور خدا کے برگزیدہ مامور و مرسل کو نعوذ باللہ کاذب کہیں اور ہم ان کو مومن حقیقی یقین کرلیں۔۔۔ہم تمام ان کاموں میں جو قومی حیثیت سے ہمارا اشتراک چاہتے ہیں شامل ہونا ضروری سمجھتے ہیں اور حضرت امام نے اپنے عمل سے بتا دیا ہے لیکن جہاں مذہبی معتقدات کی بحث آتی ہے وہاں ہم ان سے الگ رہنا ضروری جانتے ہیں اور ہمارے مغفور امام علیہ السلام اور موجودہ امام مدظلہ العالی نے جو کچھ خدا تعالیٰ کے اشارہ اور ہدایت کے ماتحت اپنا مذ ہب ظاہر کر دیا ہے۔وہی ہمارے لئے سند اور حجت ہے "۔خواجہ صاحب نے اپنے اشتہار میں زیادہ زور اس بات پر دیا تھا کہ ”ہم انہی کو کافر کہتے ہیں۔جو ہم کو کافر کہتے ہیں"۔اس لئے اخبار " المنیر " (جھنگ) نے یکم جولائی 1911ء کے پرچہ میں لکھا: خواجہ کمال الدین صاحب وہی بات کہتے ہیں جو عبدالحکیم مرتد کہتا تھا۔پس کیا وجہ ہے کہ ان کو مرزائی جماعت سے عبد الحکیم کی طرح مرتد کر کے خارج نہیں کیا جاتا۔اور تعجب کی بات ہے کہ احمدی اہل قلم ان کو برابر خواجہ خواجگان ہی لکھتے چلے جاتے ہیں"۔خواجہ صاحب نے تو یہ گول مول پالیسی عوامی ذہن کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے اختیار کی تھی مگر چونکہ انہی کے قلم سے اشتہار میں ان کے لئے " کا فر بالمامور" کے لفظ بھی نکل گئے تھے۔اس لئے غیر احمدی حلقے ان کی چالاکی کو بھانپ گئے اور خود لاہور میں ہی جہاں ان کے لیکچروں کی دھاک بیٹھی تھی۔ان کو پبلک سٹیج پر آنے سے روک دیا گیا۔در اصل خواجہ صاحب کے عام لیکچروں کی تردید میں علماء کے حلقوں نے پہلے ہی سے آواز اٹھانا شروع کر دی تھی۔حتی کہ وہ اندر ہی اندر ان لیکچروں کی بھی مخالفت کر رہے تھے۔جن میں انہوں نے محض عمومی رنگ میں اسلام کا تعارف کرایا تھا۔اور اپنی مخصوص پالیسی کے مطابق جماعت احمدیہ کا اشارہ تک نہیں کیا تھا۔مثلاً قادری پریس بنارس سے ”مولانا حاجی الحرمین قاری محمد عیسی صاحب نے تردید لیکچر خواجہ کمال الدین صاحب قادیانی" کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا جس میں " قادیانیوں کے نمائشی ایمان کا جواب" کے عنوان سے ایک فارسی نظم لکھ کر نہایت بد زبانی اور دشنام طرازی سے کام لیا۔اس طرح وہ مصلحت آمیز لیکچر جو بظاہر احمدیت کی ترقی و اشاعت کے لئے دیئے گئے تھے۔احمدیت کی مخالفت میں استعمال ہونے لگے۔سنسکرت کی تعلیم کا انتظام حضرت خلیفتہ المسیح اول نے شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم اور شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور کو سنسکرت پڑھانے کے لئے ایک پنڈت کا انتظام کیا اور اس کے اخراجات خود برداشت فرمائے۔