تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 326
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 318 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر جلسہ پر آنے والوں کو ایک نصیحت درد مند دل کے ساتھ حضرت خلیفہ اول نے ۱۸ / اپریل ۱۹۱۰ء کے خطبہ جمعہ میں نہایت درد انگیز الفاظ میں جلسہ پر آنے والوں کو نصیحت فرمائی۔۔۔۔۔تم لوگ بھی یہاں اکٹھے ہوئے تھے۔گورو کل- انجمن حمایت اسلام علی گڑھ والے بھی اکٹھے ہوئے ہیں وہاں بھی رپورٹیں پڑھی گئی ہیں۔یہاں بھی ہمارے رپورٹ نے بھی رپورٹ پڑھ دی کہ اتنا روپیہ آیا۔اتنا خرچ ہوا۔پر میں سوچتا ہوں کہ یہ لوگ یہاں کیوں آئے۔یہ روپیہ تو بذریعہ منی آرڈر بھی بھیج سکتے تھے۔اور رپورٹ چھپ کر ان کے پاس پہنچ سکتی تھی پھر جو لوگ عمائد تھے وہ اگر مجھ سے علیحدہ ملتے تو میں ان کے لئے دعائیں کرتا انہیں کچھ نصیحتیں دیتا۔لیکن افسوس کہ اکثر لوگ اس وقت آئے کہ لوجی ! السلام علیکم یکہ تیار ہے۔تم یاد رکھو میں ایسے میلوں سے سخت متنفر ہوں میں ایسے مجمعوں کو جن میں روحانی تذکرہ نہ ہو۔حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔یہ روپیہ تو وہ منی آرڈر کر کے بھیج سکتے بلکہ اس طرح بہت سا خرچ جو مہمانداری پر ہوا وہ بھی محفوظ رہتا۔یہاں کے دکانداروں نے بھی افسوس دنیا کی طرف توجہ کی اور کہا کہ جلسہ باہر نہ ہو شہر میں ہو۔ہماری چیزیں بک جاویں میں ایسے اجتماع اور ایسے روپے کو جو دنیا کے لئے ہو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔جو سن رہا ہے وہ یا د ر کھے اور دوسروں تک یہ بات پہنچا دے میں اسی غم میں پکھل کر بیمار بھی ہو گیا۔کیا اچھا ہو تاکہ تم میں سے جو تمہاری باہر کی جماعتوں کے سیکرٹری دو عمانکہ آئے تھے وہ مجھ سے علیحدہ علیحدہ ملتے ہیں ان کو بڑی نیکیاں سکھاتا اور بڑی اچھی باتیں بتا تا۔لیکن افسوس کہ ہماری صدر انجمن نے بھی ان کو یہ بات نہ بتائی اس لئے مجھ کو ان سے بھی رنج ہے۔کیا آیا کتنے روپے جمع ہوئے ہم کو اس سے کچھ بھی غرض نہیں ہم کو تو صرف خدا چاہئے مجھ کو نہیں معلوم کہ کیا جمع ہوا۔کیا آیا مجھ کو اس کی مطلق پرواہ نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو مقدم کرو۔ہماری کوششیں اللہ کے لئے ہوں اگر یہ نہ ہو تو ہائی سکول کیا حقیقت رکھتا ہے۔اور اس کی عمارتیں کیا حقیقت رکھتی ہیں۔ہمیں تو ہمار اموٹی چاہیئے۔اپنے احباب کو خط لکھو اور ان کو تنبیہ کرد۔میں تو لاہور اور امرت سر کے لوگوں کا بھی منتظر رہا کہ وہ مجھ سے کیا سیکھتے ہیں۔لیکن ان میں سے بھی کوئی نہ آیا۔میں چاہتا تھا کہ لوگ میری زندگی میں متقی اور پر ہیز گار بھی نہیں اور دنیا اور اس کی رسموں کی طرف کم توجہ کریں"۔اپریل ۱۹۱۰ء میں انٹرنس کے امتحان کا نتیجہ نکلا۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے امتحان میں کامیابی سولہ طالب علموں میں سے آٹھ طالب علم کامیاب ہوئے جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اول رہے نتیجہ نکلنے کے بعد آپ کالج میں داخلہ لینے کے لئے لاہور