تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 327
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ تشریف لے گئے۔319 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر حضرت امیر المومنین کو مبارکباد 19/ اپریل ۱۹۱۰ء کی صبح کو حضرت خلیفہ اول کے ہاں چوتھے فرزند پیدا ہوئے۔2 حضرت ام المومنین نے - حضرت خلیفہ اول کو مبارک باد دی۔تو آپ نے فرمایا کہ اس خوشی میں میرا بھی کام ہے کہ میں اب یا تمہارے لئے بہت دعا کروں یا خیرات کروں۔حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت کی طرح حضرت خلیفہ اول جھوٹے مدعیوں کا خروج کے زمانہ میں بھی بعض لوگوں نے جھوٹے دعوے کئے چنانچہ بابو سیر الدین -اروپی- عبد اللہ تیماپوری، مولوی یار محمد اور بعض دوسرے نام نہاد احمدی قدرت ثانی خلیفتہ المسیح ، مصلح موعود اور رسول ہونے کا دعوئی لے کر اٹھے۔W مولوی یار محمد کو تو دماغی خلل تھا مگر مولوی عبداللہ تیمار پوری نے از راہ شرارت اپنے خلیفتہ المسیح ہونے کا ادعا کیا۔اور اپنی بعض خوابوں پر اس کی بنیاد رکھی حضرت خلیفہ اول نے اسے اپنے خط میں لکھا کہ ایک وقت میں دو خلیفہ ہر گز نہیں ہو سکتے۔اور ابو داؤد کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر بتایا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو دوسرا شخص مدعی خلافت ہو وہ قتل کیا جانا چاہئے۔ظہیر الدین اروپی نے حضرت خلیفہ اول سے معافی مانگ کر اپنے دعوئی سے توبہ کرلی اور حضرت خلیفہ اول نے اسے معاف بھی فرما دیا مگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہا اور پھر یہ فتنہ اٹھادیا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے ان جھوٹے مدعیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک نوٹ میں لکھا ” جیسے آنحضرت الین کے مرفوع ہونے کے بعد کوئی شخص اگر خلافت راشدہ کا انکار کرے تو باوجود آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھنے کے متبع سبیل المومنین نہیں ہو سکتا اسی طرح پر کوئی احمدی جو حضرت خلیفتہ المسیح کی خلافت کو قدرت ثانیہ کے مظہر اول کی خلافت یقین کرنے میں مضائقہ کرتا ہے۔اس کا اپنے آپ کو محض حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے سے احمدی سمجھنا غلطی ہے"۔یہ سب مدعی بڑے زور و شور سے اٹھے اور بالا خر ناکام و نامراد رہے۔اور شمع خلافت پوری شان سے فروزاں رہی اور اس کے پروانے چاروں طرف سے دیوانہ وار جمع ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو نوجوانوں کے لئے تربیتی کلاس احمدی نوجوانوں کی تربیت و اصلاح کا خاص خیال رہتا تھا۔چنانچہ آپ نے اس جذبہ کے تحت اس سال سکولوں اور کالجوں کی تعطیلات کے دوران قادیان آنے