تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 325 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 325

تاریخ احمدیت جلد ۳ 317 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تو سنائی اس کے بعد حضرت صاجزادہ صاحب نے انتقامی دعا کرائی اور دعا کے بعد جلسہ بخیر و خوبی ختم ہوا۔قادیان میں جلسہ سے قبل طاعون کی بعض واردات ہو چکی تھیں اور خیال تھا کہ جلسہ پھر ملتوی ہو جائے گا۔مگر حضرت خلیفہ اول نے جلسہ کا التوا منظور نہ فرمایا۔البتہ رعایت اسباب کے پہلو سے اتنا فرما دیا کہ شہر میں ہمارے مہمان فرش پر نہ سوئیں اور رات کو وہ باہر مدرسہ تعلیم الاسلام کے میدان میں رہیں اور اصل علاج یعنی دعا کا وعدہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔سو خد اتعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور ہزاروں کے اجتماع کے دوران کوئی واردات نہیں ہوئی۔جو محض خدا کے فضل اور آپ کی دعاؤں کا ثمرہ تھا۔انجمن مسلمان راجپوتان ہند کا قیام را جوتوں میں تبلیغ کے لئے ۲۷ / مارچ ۱۹۱۰ء کو ایک انجمن کا قیام عمل میں آیا جس کا نام انجمن راجپوتان ہند" رکھا گیا انجمن کے پریذیڈنٹ چودھری غلام احمد صاحب کاٹھ گڑھی اور سیکرٹری چودھری مولا بخش صاحب بھٹی سیالکوئی تھے۔اخبار بدر - اخبار بدر الحکم میں اس سلسلہ میں جو اعلان ہوا اس سے مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کو یہ شبہ ہوا کہ اس انجمن کو دوسری بنیادی انجمنوں کے رنگ کی طرح باقاعدہ حضرت خلیفہ اول کی سرپرستی کا فخر حاصل ہے۔حضرت خلیفہ اول کو یہ بات پہنچی۔تو آپ نے لکھا۔” میری تو کوئی بھی خصوصیت سے کسی قوم کی سرپرستی نہیں۔اور ہرگز نہیں میں تمام احمدیہ جماعت اور پھر تمام اہل اسلام پھر تمام مخلوق کی بہتری کا خواہش مند ہوں"۔اپریل ۱۹۱۰ء میں حضرت حضرت خلیفہ اول کی طرف سے ایک ضروری اعلان خلیفہ اول نے بذریعہ اخبار یہ اعلان فرمایا کہ بعض احمدی آپس میں دنیوی معاملات و معاہدات کر لیتے ہیں اور ہم سے مشورہ کرنا بلکہ اطلاع تک دینا پسند نہیں کرتے مگر جب مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں تو شکایتی خطوط آنے لگ جاتے ہیں۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ لین دین کے معاملات میں عاقبت اندیشی۔شریعت اور قانون عدالت کے مطابق کام کریں صرف احمدی کہلانا کوئی خوش معاملگی کا سرٹیفکیٹ نہیں اور نہ اس سے احمدیت پر کوئی الزام ہے خدا کی مخلوق کثیر ہے امت محمدیہ میں مسلمان کہلانے والے جب بد معاملگی کرتے ہیں تو اس طرح آنحضرت ﷺ پر کوئی اعتراض نہیں مخلوق خدا میں سے کوئی بد معاملگی کرتا ہے تو اس سے خالق پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔