تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 308
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 300 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک صاحب نے اہلحدیث میں اپنے روحانی باپ" مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے متعلق جھوٹا۔بکواسی۔بیہودہ گو تک کہہ ڈالا۔نیز لکھا۔بٹالوی کا رہبر شیطان لعین ہے۔اس کے مقابل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو ” کاذب گیڈر " مفتری وغیرہ خطاب سے نوازا۔اور بڑے لمبے لمبے مضامین " اشاعۃ السنہ" میں ان کے خلاف لکھے غرضکہ ایک طوفان بے تمیزی تھا جو بلند ہوا۔اور یہ سب کچھ اس شوخی اور بے باکی کی پاداش میں تھا۔جو ان خدا نا ترس علماء نے حضرت 10 مسیح موعود علیہ السلام کے بالمقابل دکھائی تھی۔اس معرکہ آرائی کے دوران مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حق کی طرف بھی رجوع کر لیا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تھی۔هذا الرجل يو من بایمانی قبل موته - یہ شخص اپنی موت سے قبل میرا مومن ہونا تسلیم کر IBI لے گا۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے 1909ء میں اس سلسلہ میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ یہ اعلان کیا کہ آنے والا مسیح موعود آسمانی نشانات و برکات سے اسلام کو غالب کرے گا۔ان کی اصل عبارت یہ ہے:۔112 IA " (امام مهدی) بھی حضرت مسیح موعود کی طرح اپنے مشن میں سیفی جنگ و تلوار و تفنگ سے کام نہ لیں گے بلکہ صرف آسمانی نشانات اور روحانی برکات سے دنیا میں دین اسلام کی اشاعت کریں گے"۔اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن اور آپ کا دعویٰ تھا۔اس حیرت انگیز اعلان کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھایا کہ پہلے اپنے ایک لڑکے ابو اسحق کو پھر عبد الباسط کو قادیان کے مدرسہ تعلیم الاسلام میں داخل کرا دیا۔جس پر اہلحدیث حلقے میں بہت شور اٹھا مگر مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ”میرے پانچ لڑکے یکے بعد دیگرے علم عربی دینی کے پڑھنے میں کو تاہی اور آخر صاف انکار اور مخالفت احکام شریعت پر اصرار کرنے کے سبب میری اطاعت سے خارج اور عاق ہو گئے۔ان میں سے بڑا ابو اسحق نانی اب تک آوارہ پھرتا ہے اور اس کا پتہ نہیں۔دوسرا چھوٹا عبد الباسط قابو آیا۔تو منشی یعقوب علی ایڈیٹر ا حکام نے اس کا حال سن کر ہمدردی کا اظہار کیا۔اور اپنے سکول کے انتظام کی تعریف کر کے کہا کہ ان کو چند روز کے لئے ہمارے سپرد کر دیں۔اس سکول کے انتظام و تعلیم کی تعریف میں نے خار جا بھی سنی یعنی سرکاری ملازموں نے بھی کی۔یہ سن کر چھوٹے لڑکے کو ان کے سپرد کر دیا۔میں نے ان سے یہ شرط کر لی ہے کہ احمدی عقائد کی ان کو تعلیم نہ دیں۔جس کو انہوں نے قبول کر لیا۔ساتویں جماعت کی تعلیم مذہبی میں بانی مذہب کا لیکچر مہوتسو اور حمامتہ البشری داخل تھا۔میرے کہنے سے انہوں نے اس لڑکے کی تعلیم سے اس کو بھی نکال دیا۔