تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 309
تاریخ احمدیت جلد ۳ 301 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک ارکان سکول اور بورڈنگ کے حسن تدبیر و نگرانی و لطف سے لڑکے کا دل وہاں تعلیم پر اچھی طرح لگ 144- گیا۔اور اس کی آوارگی جاتی رہی۔اس کے بعد تیسرا قدم یہ اٹھایا کہ انہوں نے گوجرانوالہ میں لالہ دیو کی نندن کی عدالت میں اپنے فتویٰ کفر سے رجوع کرتے ہوئے) بیان دیا۔” ایک فرقہ احمد یہ بھی اب تھوڑے عرصہ سے پیدا ہوا ہے جب سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعوئی مسیحیت اور مہدویت کا کیا ہے۔یہ فرقہ بھی قرآن و حدیث کو یکساں مانتا ہے۔کسی فرقہ کو جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ہمارا فرقہ مطلقا کافر نہیں ماننا"۔چنانچہ اس بیان پر منصف نے اپنے فیصلہ میں صافی لکھا۔”مولوی محمد حسین صاحب گواه مدعیه اسلام کے حنفی ہیں اور احمدی فرقہ والوں کے نزدیک وہ کافر ہیں۔جیسے کہ انہوں نے اپنے بیان میں خود تحریر کرایا ہے۔اور ایسے ہی مولوی عبدالحکیم صاحب گواہ مدعیہ کے نزدیک احمدی فرقہ کے لوگ کافر ہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کے پیرو ہیں۔حالانکہ مولوی محمد حسین گواہ کے نزدیک وہ کافر نہیں۔پس اس سے ظاہر ہوا کہ ایک فرقہ والا دوسرے فرقہ والے کو کافر کہتا چلا آیا ہے۔دراصل کوئی کافر نہیں ہے جیسے کہ مولوی محمد حسین گواہ کا بیان ہے۔۔۔اسلام کا اصل مقصود دنیا میں توحید پھیلاتا ہے اور دنیا سے شرک کو مٹانا ہے پس جو شخص ایک خدا کو مانتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور ایک خدا کی عبادت کرتا ہے وہ قرآن مجید کی رو سے مسلمان ہے خدا اور رسول اسے مسلمان کہتے ہیں۔اور ایسا شخص اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا"۔ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کے سوالات کے مشہور مسلمان فلسفی شاعر اور قانون دان ڈاکٹر سر محمد اقبال (۱۸۷ - ۱۹۳۸) نے ۱۹۰۹ء میں جوابات حضرت خلیفہ اول کی طرف سے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں مندرجہ ذیل سوالات بغرض جواب بھجوائے :- ال کیا کوئی غیر مسلم فرمانروا اپنی مسلمان رعایا کے لئے وضع قانون کر سکتا ہے ؟ ۲۔کیا کوئی غیر مسلم حج از روئے قانون اسلامی مسلمانوں کے مقدمات فیصل کر سکتا ہے ؟ کیا تاریخ اسلام میں کسی ایسے غیر مسلم حج کی نظیر موجود ہے جو بحیثیت عمدہ مسلمانوں کے مقدمات فیصل کرتا ہو؟۔کیا مسلمان ہونے کے لئے شرع محمدی کی پابندی لازمی ہے۔اگر ہے تو ان مسلمان قوموں کی نسبت کیا حکم ہے جن کے معاملات زیادہ تر رواج سے فیصل پاتے ہیں اور جو خود اپنے آپ کو رواج کا پابند ظاہر کرتی ہیں۔