تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 307 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 307

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 299 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک "نجات" کے عنوان سے لکھا جو پہلے رسالہ " تشعیذ الاذہان " میں اور پھر مستقل رسالہ کی شکل میں شائع ہوا۔اس مضمون میں آپ نے عیسائیوں کے سامنے چار فیصلہ کن سوال بھی رکھے۔جس سے عیسائی دنیا کبھی عہدہ بر آنہیں ہو سکتی۔ا ثابت کیا جائے کہ خدا تین ہیں جب تک خدا تین ثابت نہ ہوں نہ کفارہ رہتا ہے نہ نجات تورات و خروج ب ۸ آیت ۱۸۔تو صرف خدائے واحد لا شریک کا تصور پیش کرتی ہے؟ ۲۔اگر خدا تین ہیں تو یسوع ہی کیونکر تیسرا خدا ہے کیونکہ بیٹے کا لفظ بہتوں کے لئے بولا گیا ؟ متی ب ۲۶ آیت ۳۹ سے ثابت ہے کہ مسیح صلیب پر مرنا نہ چاہتا تھا۔پس خدا ظالم ٹھرتا ہے۔۴۔یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ مسیح نے واقعی صلیب پر جان دے دی تھی ؟ آخر ۱۹۰۹ء میں عیسائیوں نے فورمین کالج مسیحی لیکچروں کے جواب میں اسلامی لیکچر میں تقریروں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔جس کے آخر میں چند منٹ مسلمانوں کو بھی سوال کے لئے دئے جاتے تھے۔مسلمانان لاہور کا منشایہ تھا کہ مسلمان اول تو ان لیکچروں کو نہ سنیں دوم اسی وقت ان کے مقابلہ میں لیکچر دئیے جائیں۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے ۵/ نومبر ۱۹۰۹ء کو اعلان فرمایا کہ یہ دونوں طریق درست نہیں اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے عیسائی اپنے لیکچر مکمل کر لیں اس کے بعد لاہور میں اسلامی لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔||141 چنانچہ اس اعلان کے مطابق ۲۹ دسمبر ۱۹۰۹ء تا یکم جنوری ۱۹۱۰ء چار روز احمد یہ بللہ نگس میں جوابی لیکچر ہوئے۔دوسرے مقررین کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی نجات کے موضوع پر مدلل تقریر فرمائی۔اس موقع پر عیسائیوں نے حافظ احمد مسیح صاحب اور بریلی کے جو الا سنگھ صاحب کو بلوالیا اور دوبارہ لیکچروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔مگر اس میں ان کو پوری ناکامی ہوئی اور لیکچر بند کر دینے پڑے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی ۱۹۰۹ء کا سال اس اعتبار سے بھی بڑی اہمیت رکھتا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ہے کہ اس میں سلسلہ کے دو مشہور معاند مولوی ۱۱۹۴ محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی شاء اللہ سے چپقلش اور تکفیر سے رجوع صاحب جو جماعت کو تباہ کرنے کا دعوئی لے کر اٹھے تھے۔آپس میں الجھ پڑے۔اور ملک کے دوسرے مشہور علماء بھی رفتہ رفتہ اس جنگ میں کو دپڑے اور فریقین نے ایک دوسرے کو کافر کہنے پر بس نہ کر کے مرصع گالیاں دیں۔چنانچہ مولوی ثناء اللہ