تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 295 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 295

جلد ۳ 287 درسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک وفات تک بڑی دلچسپی سے یہ خدمت سر انجام دیتے رہے۔اپنے سیکر ٹری شپ کے تیسرے سال انہوں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ علی گڑھ کالج کے لئے دولاکھ روپیہ چندہ جمع کریں۔اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اول نے ۲۲ / مارچ ۱۹۰۹ء کو ایک مفصل خط لکھا جس میں علی گڑھ کالج کے نظام تعلیم کے بارے میں ناقدانہ نگاہ سے لکھا“۔” آپ کا محمڈن کالج - آکسفورڈ کیمرج کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔اسلام درگور ہے بلکہ ہندوستان سے اسلام کا مقابلہ محال ہے۔جس قدر آپ ترقی کریں کرلیں یورپ و امریکہ کو چھوڑ ہندوؤں سے مقابلہ بھی خواب و خیال ہو گا۔اسلام مال سے نہیں اخلاص سے ترقی کر چکا اور کرے گا۔ایمان اعمال صالحہ سے وابستہ ہے"۔نیز تحریر فرمایا۔گو سرسید دعا کا نتیجہ حصول مراد نہیں مانتے تھے۔مگر میں بخلاف ان کے دعا کو سبب حصول مرادات مانتا ہوں ایک پیسہ جمع کرنا بھی نا پسند کرتا ہوں اور یہ واقع ہے کہ پھر بائیں آپ کے سرسید بھی میری عزت کرتے تھے اور بہت کرتے تھے محسن الملک اور ان کے بازو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔حضور کسی امام و مصنف کا نام اسلام میں بتا سکتے ہیں جس نے ان رویوں کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا۔لائبریری کا عالیجاہ؟ آپ کو شوق ہے مگر صرف ہندوستان میں صرف میری لائبریری ہے جس سے سرسید احمد خاں اور مولانا شبلی نے بحمد اللہ ضرور فائدہ اٹھایا ہو گا۔یا ہے ایک تو دنیا سے چل بسے دوسرے موجود ہیں آپ ان سے دریافت فرما سکتے ہیں۔| ۱۴۵ انجمن "الاخوان" کے سالانہ جلسہ پر تقریر مارچ 196ء کے آخری عشرہ میں لاہور کے احمدی طلباء نے اپنی انجمن الاخوان کا سالانہ جلسہ کیا۔جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالٰی کو بھی مدعو کیا۔آپ کو ان دنوں سخت چوٹ لگی ہوئی تھی اور اس حالت میں ڈاکٹروں نے آپ کو آرام کا مشورہ دیا تھا۔مگر محض خدمت کے جذبہ کے باعث آپ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح اول کی اجازت سے جلسہ میں شامل ہوئے جب پنڈال میں پہنچے آپ کو سخت درد ہو رہا تھا۔لیکن خدا کے فضل سے جو نبی ||-| آپ کھڑے ہوئے درد دور ہو گیا اور آپ نے اس کے بعد نہایت فاضلانہ لیکچر دیا جو بہت پسند کیا گیا۔1 حضرت صاحبزادہ صاحب مارچ ۱۹۰۹ء کے خاتمہ پر حضرت دہلی سے قصور تک تبلیغی دورہ ام المومنین اور دیگر صاحبزادگان اور حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے رستہ میں آپ چند روز کپور تھلہ میں ٹھہرے۔کپور تھلہ سے پھر لاہور کے جلسہ سیرت النبی اللہ میں شمولیت فرمائی اور نہایت موثر اور روحانیت سے لبریز تقریر فرمائی۔لاہور سے فراغت کے بعد پھر دہلی پہنچے اور وہاں ۹/ اپریل کو ایک کامیاب لیکچر دیا اس کے