تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 294 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 294

تاریخ احمدیت جلد ۳ 286 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے مکین خلافت کے نشان تک پیشگوئیوں کا جو ایران اور ترکی سے متعلق تھیں، ایسا واضح ظہور ہوا کہ ایک عالم دنگ رہ گیا۔ا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہو ا تھا۔" تزلزل در ایوان کسری افتاد " اس الی خبر کے عین مطابق عوام نے ایرانی شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔اس پیشگوئی کے پورے ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک اشتہار دیا جس میں اس کی تفصیلات کا ذکر کرنے کے بعد لوگوں کو یہ دعوت دے کر اتمام حجت کی کہ " آؤ اور خدا کے قائم کردہ سلسلہ میں داخل ہو۔ورنہ ایسے نشان کی نظیر کسی جھوٹے نبی کے کارناموں میں دکھلاؤ۔مگر جو کہتا ہے کہ ایسا ہوتا ہے وہ جھوٹا ہے خدا تعالی فرماتا ہے۔لعنة الله على الكاذبين پس خدا کی لعنت سے بچنے کے لئے احمدیت کے جھنڈے کے نیچے پناہ لو"۔-۲- حضرت مسیح موعود نے صاف فرمایا تھا کہ سلطان (روم۔ناقل) کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا۔اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق ترکی میں ایک خونی انقلاب آیا۔جس کے نتیجہ میں سلطان عبد الحمید خاں معزول کر دئے گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف ایدہ اللہ تعالٰی نے اس پیشگوئی کے ظہور پر " تازہ نشان" کے عنوان سے ایک زبر دست مضمون شائع کیا۔2 حضرت خلیفہ اول کا مکتوب خواجہ خواجہ حسن نظامی صاحب (۶۱۸۷۸ - ۱۹۵۷ء) حسن نظامی صاحب کے نام نے حضرت محبوب الى نظام الدین اولیاء (۱۳۲۵-۱۲۳۸) کے متعلق حضرت خلیفتہ اصبح اول سے کچھ لکھنے کی درخواست کی تھی اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اول نے حضرت نظام الدین صاحب کی شان و عظمت کے بارے میں ایک ایمان افروز مکتوب لکھا۔چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا :- اب میں قرآن کریم کو پڑھتا ہوں تو اس میں ارشاد ہے۔وکذالك جعلنا كمامة وسطا لتكونوا شهداء على الناس تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ حقیقت ہر زمانہ کے اخیار میں طاری و ساری ہے۔اور ہمیشہ اس کے مطابق ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور اس معیاد پر میں نے حضرت نظام الحق والدین سلطان الدنیا و العقبیٰ کو دیکھا تو سات سو برس کے قریب قریب ہوتا ہے کہ ہزاروں ہزار اخیار آپ کی مدح میں رطب اللسان ہیں۔پس میرا دلی یقین ہے کہ وہ محبوب الہی۔۔۔۔واقعی محبوب الہی تھے۔نواب وقار الملک کے نام خط نواب وقار الملک مشتاق حسین صاحب (۱۸۳۷- ۱۹۱۷) سرسید کے دست راست تھے۔اور اسی لئے نواب محسن - الملک مولوی مهدی علی خاں کی وفات پر اکتوبر ۱۹۰۷ء میں علی گڑھ کالج کے سیکرٹری ہوئے اور اپنی