تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 282
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 274 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر کی خدمت میں یہ شکایت کی تو جب مولوی محمد علی صاحب کو اس شکایت کا علم ہوا تو وہ بہت طیش میں آگئے یہاں تک کہ انہوں نے قادیان سے جانے کا ارادہ کر لیا۔اور تیاری شروع کردی جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے بہت سمجھایا مگر مولوی صاحب روانگی پر زیادہ ہی مصر ہوتے چلے گئے۔آخر اس کی اطلاع حضور کو پہنچی اور حضور مولوی محمد علی صاحب والی کو بھی میں تشریف لائے بات چیت شروع ہوئی۔تو مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ ہم اس لئے یہاں آئے ہیں کہ حضور سے دعائیں۔اور جب ہاری شکایتیں حضور کے پاس جاتی ہیں تو آخر آپ بھی انسان ہیں کسی وقت ان سے متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ میری حالت یہ ہے کہ ایک ہی خیال ہے جو کہ ہر وقت مجھے اپنی طرف متوجہ رکھتا ہے اور دوسری طرف مجھے متوجہ ہونے ہی نہیں دیتا۔میں باہر آپ لوگوں میں بیٹھتا ہوں آپ سمجھتے ہیں یہ ہم میں بیٹھا ہوا اور ہماری باتیں سنتا ہے مگر میرا ذ ہن اسی ایک خیال کی طرف لگا ہوا ہوتا ہے گھر میں جاتا ہوں تو گھر والے سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ہیں مگر میرا دھیان اسی ایک بات کی طرف ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے دعوئی کے دلائل بھی دیئے اور لوگوں کے اعتراضوں کے جواب بھی دئے اور خداتعالی نے ہمارے لئے زبردست نشان بھی دکھائے مگر یہ کچھ بھی نہیں اگر اصل کامیابی نہ ہو اور وہ یہ ہے کہ ہم ایک عمدہ جماعت تیار کرلیں جو ہمارے بعد عمدگی کے ساتھ اس کام کی تکمیل کر سکے۔کہ جس کو ہم نے شروع کیا ہے۔حضور نے اس وقت ایسے پر درد طریقہ سے اس کو بیان فرمایا کہ حضور پر بھی رقت طاری تھی اور جس قدر حضور کے خدام موجود تھے ان میں سے اکثر کی آنکھیں پر نم تھیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اس نے میری توجہ کو اس قدر کھینچا ہوا ہے کہ میر صاحب نے بے شک میرے پاس اگر کچھ کہا تھا میرے کان میں کچھ آواز پڑ رہی تھی۔مگر میں اس کی طرف اس قدر بھی متوجہ نہیں ہو سکا کہ مجھے سمجھ آتا کہ انہوں نے کیا کہا ہے"۔(خلافت حقہ صفحہ ۲۱-۲۲) حقیقت اختلاف صفحہ 10-11- ۴۲۔انجمن کے اجلاسوں میں جس درجہ دھاندلی مچائی جاتی تھی اس کا کسی قدر نمونہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مندرجہ ذیل بیان سے ملتا ہے فرماتے ہیں:۔ان لوگوں کی عادت تھی کہ جب وہ دیکھتے کہ کوئی بات مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے پیش ہو رہی ہے۔تو اس کے متعلق مولوی صاحب کی رائے معلوم کرنے کے لئے کتنے مولوی صاحب ہمیں تو اس کے متعلق کچھ علم نہیں آپ اس کی تفصیل اور تشریح کر دیں۔اس پر مولوی صاحب بتا دیتے کہ اس بارے میں ان کا کیا خیال ہے اس کے بعد ان کے ساتھی وہی رائے دے دیتے۔چونکہ کثرت ان کی ہوتی تھی ہمارے لئے بولنے کا موقعہ ہی نہ ہوتا۔مولوی محمد علی صاحب کی رائے کی تائید میں رائے دینے والے۔ڈاکٹر محمد حسین صاحب تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب تھے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔خواجہ صاحب تھے۔شروع میں ایک لمبے عرصہ تک خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم بھی ان کے ساتھ اور ان کے بڑے جوشیلے ساتھی تھے۔ادھر میں اکیلا ایا ہم دو آدمی ہوتے تھے۔ہماری رائے پر کوئی غور ہی نہ کرتا تھا۔نواب صاحب نے مجلس میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب باہر ہوتے تھے۔اس لئے مجلس میں جانے والا آخر میں ہی رہ گیا تھا۔اس دن ان لوگوں نے سیٹھ صاحب پر زور دیا کہ آپ بھی رائے دیں۔پہلے تو انہوں نے کہا کہ میں کیا رائے دے سکتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں۔آپ کام کریں جب پھر زور دیا تو چونکہ بزنس مین کی سمجھ بڑی تیز ہوتی ہے انہوں نے دیکھا کہ یہ تو ان لوگوں نے محول بنا رکھا ہے ایک ہی شخص سے پوچھتے ہیں کہ آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں اور جب وہ اپنی رائے ظاہر کر دیتے ہیں تو وہی رائے خود دے دیتے ہیں۔دو تین بار یہی طریق دیکھ چکے تھے۔جب انہیں پھر کسی نئے مسئلہ کے بارہ میں کہا گیا کہ سیٹھ صاحب آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں تو اسی کمرہ میں جو اس مسجد کے ساتھ چھوٹا سا ہے اسی طرز پر جس طرح وہ لوگ ہاتھ بڑھا کر کہا کرتے تھے میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگے۔اس بارہ میں جو میاں صاحب فرماتے ہیں وہی میری رائے ہے۔یہ پہلی دفعہ تھی جب انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔اور پھر کھل گئے “۔(الفضل مورخہ ۶/ اگست ۱۹۴۱ء صفحہ ۴ کالم ۵۳) ۳۳۔کشف الاختلاف صفحه ۱۶ ۲۴ الحکم جلد نمبر پر چہ ۳۱ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۹۔کالم ۱-۲ ۴۵۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی یعنی شہادت بڑی تفصیل سے بیان کرتے