تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 283 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 283

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 275 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔"جس روز مسجد کے چندہ کے واسطے گوجرات یا کڑیانوالے کی طرف جارہے تھے اور جناب نواب خان صاحب تحصیلدار کے ٹانگ پر ہم تینوں سوار کو چہان اور جناب خواجہ صاحب آگے تھے۔میں اور جناب پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔تو جب ہم اس سڑک پر پہنچے جو کہ کڑیانوالہ کی طرف جاتی ہے تو خواجہ صاحب نے یہ فرمایا کر کہ راستہ باتوں کے ساتھ طے ہوا کرتا ہے اور میرا ایک سوال ہے آپ اس کا جواب دیں۔سوال شروع کیا۔صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا کہ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے۔کہ وہ کم اور خشک کھاتے خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے۔اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔لیکن جب ہماری بیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔لہذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے ہو۔اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھو کہ میں نہ آویں گی۔پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں جب میں نے جناب کو (مولوی محمد علی صاحب مراد ہیں ناقل) کہا تھا۔کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہو اتو لنگر بند ہو جاوے گا۔مگر یہ (خواجہ وغیرہ) ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بد نکنی کرتے ہیں۔اور یہ سنا کہ میں نے بوجہ محبت۔یہ کہا تھا کہ آپ آئندہ کبھی اس معاملہ میں شریک نہ ہوں۔ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس کی زیادہ ناراضگی کا موجب ہو جاوے۔اور آپ کو نقصان پہنچے۔اس کے دو تین روز بعد خواجہ صاحب قادیان آئے تو نماز مغرب کے بعد آپ (یعنی مولوی محمد علی صاحب) نے مجھے بلایا۔جب میں حاضر ہوا تو آپ (مولوی محمد علی صاحب۔ناقل ) اور خواجہ صاحب مجھے مسجد مبارک کی چھت پر لے گئے تو خواجہ صاحب نے مجھے فرمایا۔کہ تم حضرت صاحب سے اچھی طرح سے بات چیت کر لیا کرتے ہو تم ضرور حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کرو کہ حضور وہ تو حضور کے غلام ہیں اور حضور کے ہاتھ پر بک چکے ہوئے ہیں۔بھلا غلام کیا اور اس کا مال کیا اصل بات یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ ہے کہ خدا تعالٰی ہم کو حضور کی خدمت میں اس واسطے لایا ہے کہ حضور پر جو کاروبار ظیم کا بوجھ ڈالا گیا ہے ہم ان کاموں میں حضور کا ہاتھ بٹائیں۔اور فنگر کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں۔حضور کے اوقات گرامی میں تشویش واقع ہوتی ہے۔حضور کی طبیعت چاہتی ہے کہ حضور کے مہمانوں کی اچھی طرح خاطرداری اور مہمان نوازی ہو۔لیکن ملازم لنگر یوجہ نگران نہ ہونے کے اچھی طرح کام نہیں کرتے۔تو اس سے بھی حضور کو تکلیف ہوتی ہے روپیہ بہت سرف ہوتا ہے اور غرض حاصل نہیں ہوتی۔تو حضور کی تشویش کو دیکھ کر ہم کو یہ ندامت ہوتی ہے۔کہ ہم کیوں اس تشویش کے رفع کرنے میں کوشش نہیں کرتے۔پس محض اس خیال سے وہ چاہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ان کے سپرد ہو جائے۔ورنہ حضوران کی جانوں اور مالوں کے بھی مالک ہیں وہ کب یہ خیال دل میں لا سکتے ہیں کہ جناب بے جا صرف کرتے ہیں لہذا یہ انتظام ہم کو دیا جائے۔اور خواجہ صاحب بار بار تاکید کرتے تھے۔کہ ضرور کہنا اور یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفتہ آپ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب ! اب مجھے وہ طریق معلوم ہو گیا ہے جس سے لنگر کا انتظام نور احضرت صاحب ہمارے سپرد کر دیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ دیکھو کہ جونہی میں پیش کروں گا تو آپ ضرور ہی حوالہ کر دیں گے۔اس پر آپ (یعنی مولوی محمد علی صاحب) نے یہ کہا کہ خواجہ صاحب! میں تو اب ہر گز نہیں پیش کروں گا۔تو خواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آنکھیں سرخ کرلیں۔اور غصہ والی شکل اور غضب والے لہجہ سے کہنا شروع کر دیا کہ قومی خدمات ادا کرنے میں بڑے مشکلات پیش آیا کرتے ہیں اور کبھی حوصلہ پست نہ کرنا چاہئے۔اور یہ کیسی غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کیسی محنت سے جمع ہو تا ہے اور جن اغراض قومی کے لئے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر روپیہ دیتے ہیں وہ رو پید ان اغراض میں صرف نہیں ہو تا بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہیں ہو سکے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو