تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 281 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 281

تاریخ احمدیت جلد ۳ 273 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر ۲۳ الذكر الحکیم نمبر ۴ صفحه ۲-۳ ۲۴۔یعنی یہ تجویز کہ ریویو آف ریپلیمرہ میں عام اسلامی مضامین شائع ہو اکریں اور خاص مضامین جو حضور کے متعلق ہوتے ہیں وہ علیحدہ شائع ہوں۔۲۵- الذكر ا حلیم صفحہ ۷۳ عبدالحکیم مرتد نے حضرت مسیح موعود کی پینگوئیوں کا پیش کرنا اسلام کی توہین کے مترادف قرار دیا تھا اور گو خواجہ صاحب موصوف نے یہ بات کھلم کھلا کہیں نہیں لکھی مگر عملاوہ حضرت اقدس کی پیشگوئیوں کو کچھ زیادہ وقعت نہ دیتے تھے۔جس کے ثبوت میں بطور مثال دو واقعات پیش کئے جاتے ہیں:۔مولوی محمد علی صاحب مرحوم نے رسالہ " حقیقت اختلاف " صفحہے میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواجہ صاحب کے متعلق فرمایا۔" مہوشو کے جلسہ اعظم مذاہب کے واسطے جب میں نے مضمون لکھا تو طبیعت بہت علیل تھی۔اور وقت نهایت تنگ تھا اور ہم نے مضمون جلدی کے ساتھ اس تکلیف کی حالت میں لیٹے ہوئے لکھایا۔اس کو سن کر احباب میں سے ایک نے کچھ نا پسندیدگی کامنہ بنایا اور پسند نہ کیا کہ مذاہب کے اتنے بڑے عظیم الشان جلسہ میں وہ مضمون پڑھا جائے۔اور جیسا کہ آئینہ صداقت " سے پتہ چلتا ہے۔خواجہ صاحب حضور کی اس پیشگوئی پر کہ مضمون بالا رہا۔اس درجہ نا امید تھے کہ حضرت مسیح موعود کے ارشاد کے باوجود انہوں نے نہ خود اس کے لئے اشتہار دیا اور نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔آخر جب لوگوں نے حضور کو بتا کر خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگادئے تالوگ ان کو نہ پڑھ سکیں اور حضور کو بھی کہا جاسکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے۔(۲) سعد اللہ لدھیانوی کے ابتر ہونے کی پیشگوئی پر خواجہ صاحب نے جو مظاہرہ کیا اس کا مفصل ذکر حضرت مسیح موعود کے الاستفتاء میں موجود ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اس الہام کو شائع نہ کیا جائے۔اس ضمن میں حضور کے خط کا عکس آخر میں دیا جارہا ہے۔۲۷ پیغام صبح ۷ اردسمبر ۱۹۳۸ء جوبلی نمبر صفحہ ۲۱ کالم ا۔۲۸۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحہ ۵۔۲۹۔اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۱۶۷۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحه ۳۶-۱۳۷ تقریر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده الله تعالی بنصره العزيز ۳۰۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحہ ۱۷۰ ۱۷۱ ۳۱۔بحوالہ حیات احمد جلد پنجم ۱۹۰۱ء تا ۱۹۰۲ء صفحه ۳۲-۳۱ یہ تقریر اس زمانہ میں ہی الحکم میں ہی چھپ گئی تھی۔۳۲۔چنانچہ حضور خود فرماتے ہیں کوئی نادان اس قبرستان اور اس انتظام کو بدعت میں داخل نہ سمجھے کیونکہ یہ انتظام حسب وحی الی ہے انسان کا اس میں دخل نہیں اور کوئی یہ خیال نہ کرے کہ صرف اس قبرستان میں داخل ہونے سے کوئی بہشتی کیونکر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ زمین کسی کو بہشتی کر دے گی بلکہ خدا تعالی کے کلام کا یہ مطلب ہے کہ بہشتی ہی اس میں دفن کیا جائے گا( الوصیت صفحہ 19 حاشیہ شائع کردہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) - ضمیمه الوصیت صفحه ۲۳ شائع کر دو انجمن اشاعت اسلام۔۳۴۔حاشیہ الوصیت صفحہ سے شائع کردہ انجمن اشاعت اسلام ۱۹۱۴ ء ۳۵ کشف الاختلاف صفحه ۴۹۴۸ ۳۶۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ ۳۷-۳۸ ۳۷۔اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۵۳۷۔۳۸۔کشف اختلافات صفحه ۱۲۔۳۹۔فاروق ۱۹ مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۳۔۴۔۴۰۔اس کی تفصیل میں مولوی سید سرور شاہ صاحب لکھتے ہیں۔" مجھے بخوبی یاد ہے کہ جب مسجد مبارک کی تعمیر کابل مولوی محمد علی صاحب نے روک دیا اور حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو اس سے تکلیف ہوئی تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام