تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 279 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 279

تاریخ احمدمیت، جلد ۳ نہ لگ جائے۔271 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر پھر مجھے کہتے ہیں کہ لوگوں سے اختلاط کرتا ہے۔اس کا جواب تمہارے لئے جو میرے مرید ہیں یہی کافی ہے کہ تم میرے آمر نہیں بلکہ مامور ہو۔۔۔میں تمہارے ابتلاء سے بہت ڈرتا ہوں اس لئے مجھے کمانے کا زیادہ فکر ہوتا ہے۔سب کے گولے اور زلزلے سے بھی زیادہ خوفناک یہ بات ہے کہ تم میں وحدت نہ ہو۔جلد بازی سے کوئی فقرہ منہ سے نکالنا بہت آسان ہے۔مگر اس کا نکلنا بہت مشکل ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں ہم تمہاری نسبت نہیں بلکہ اگلے خلیفے کے اختیارات کی نسبت بحث کرتے ہیں مگر تمہیں کیا معلوم کہ وہ ابو بکڑ اور مرزا صاحب سے بھی بڑھ کر آئے۔میں تم پر بڑا حسن ظن رکھتا ہوں میں نے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کبھی تمہارے محرروں سے بھی دریافت نہیں کیا کہ تم لوگ کس طرح کام کرتے ہو مجھے یقین ہے کہ تم تقویٰ سے کام کرتے ہو۔میں آج کے دن ایک اور کام کرنے والا تھا۔مگر خدا تعالٰی نے مجھے روک دیا ہے اور میں اس کی مصلحتوں پر قربان ہوں۔۔۔۔۔۔میں ایسے لوگوں کو جماعت سے الگ نہیں کرتا کہ شاید وہ سمجھیں پھر سمجھ جائیں پھر سمجھ جائیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کی ٹھوکر کا باعث بنوں۔میں اخیر میں پھر کہتا ہوں کہ آپس میں تباغض و تحاسد کا رنگ چھوڑ دو۔کوئی امرا من یا خوف کا پیش آجاوے۔عوام کو نہ سناؤ۔ہاں جب کوئی امر طے ہو جائے تو پھر بے شک اشاعت کرد۔اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ باتیں تمہیں ماننی پڑیں گی۔طوعا د کرہا۔اور آخر کہنا پڑے گا۔اتینا طائعین۔جو کچھ میں کہتا ہوں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔اللہ تعالٰی مجھے اور تمہیں راہ ہدایت پر قائم رکھے اور خاتمہ بالخیر کرے۔آمین"۔142 اس جگہ اس بات کا بیان کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا معافی پانے والوں کا تجاہل عارفانہ کہ جن ممبران انجمن کو حضرت خلیفتہ المسیح اول جماعت سے خارج کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔اور ان کی معافی مانگ لینے پر آپ نے اپنا ارادہ ملتوی فرما دیا تھا انہوں نے آپ کے اس اعلان معافی کے موقعہ پر اسی پر چہ اخبار بدر میں جس میں آپ کا مذکورہ بالا خطبہ چھپ کر شائع ہوا تھا۔اپنی طرف سے ایک اعلان شائع کیا۔جس سے یہ ظاہر ہو تا تھا کہ گویا یہ اعلان ان لوگوں کے متعلق نہیں۔بلکہ ایسے لوگوں کے متعلق ہونے والا تھا جن کا انہیں کچھ علم ہی نہیں تھا۔کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ جب وہ عید کے موقع پر قادیان یہاں آئے تو یہاں آکر انہیں معلوم ہوا کہ بعض نامعلوم لوگوں کے متعلق آپ کا ایسا ارادہ تھا۔جسے آپ نے ملتوی کر دیا ہے۔