تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 278
تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 270 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر لوگوں کے جماعت سے اخراج کا فیصلہ کر چکے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آخری تعزیری کارروائی سے روک دیا دوسری طرف باغیان خلافت نے یہ دیکھ کر کہ لوگ ہماری بات سنتے ہی نہیں۔اور ہماری کوششیں بے سود ہیں از خود دوبارہ معافی مانگ لی۔اور بعض نے دوبارہ بیعت بھی کی۔اس روز آپ نے ایک جلالی خطبہ پڑھا جس میں ان لوگوں کو خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کی اور حلفیہ اعلان کیا کہ مجھے خدا نے عبائے خلافت پہنائی ہے اب میں اسے ہر گز نہیں اتار سکتا۔چنانچہ آپ نے فرمایا :۔خدا نے جس کام پر مجھے مقرر کیا ہے۔میں بڑے زور سے خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اب میں اس کرتے کو ہر گز نہیں اتار سکتا۔اگر سارا جہان بھی اور تم بھی میرے مخالف ہو جاؤ۔تو میں تمہاری بالکل پرواہ نہیں کرتا اور نہ کروں گا۔تم معاہدہ کا حق پورا کرو۔پھر دیکھو کس قدر ترقی کرتے ہو اور کیسے کامیاب ہوتے ہو مجھے ضرور تا کچھ کہنا پڑا ہے۔اس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تمہار ا ساتھ دوں گا۔مجھے دوبارہ بیعت لینے کی ضرورت نہیں۔تم اپنے پہلے معاہدہ پر قائم رہو۔ایسا نہ ہو کہ نفاق میں مبتلا ہو جاؤ۔اگر تم مجھ میں کوئی اعوجاج دیکھو تو اس کی استقامت کی دعا سے کوشش کرد۔مگر یہ گمان نہ کرو کہ تم مجھے بڑھے کو آیت یا حدیث یا مرزا صاحب کے کسی قول کے معنے سمجھا لو گے اگر میں گندہ ہوں تو یوں دعا مانگو کہ خدا مجھے دنیا سے اٹھا لے۔پھر دیکھو کہ دعا کس پر الٹی پڑتی ہے۔تو بہ کرو اور دعا کرو اور پھر دعا کرو۔میں فروری گویا نو ماہ سے اس دکھ میں مبتلا ہوں اب تم اس بڑھے کو تکلیف میں نہ ڈالو۔اس پر رحم کرو۔اگر میں نے کسی کا مال کھایا تو میں دس گناہ دینے کی طاقت رکھتا ہوں۔اگر میں نے کسی سے طمع کیا ہے تو میں لعنت کر کے کہوں گا کہ ایسا آدمی ضرور بول اٹھے میں اپنے آپ کو لعنتی سمجھوں گا اگر میں نے تمہارے مالوں میں سے کچھ لینے کا خیال کیا ہو۔اللہ تعالٰی نے ہمارے خاندان سے پہلوں کو بھی امیر بنایا ہے۔حضرت مجددالف ثانی۔شاہ ولی اللہ صاحب دھلوی۔فرید الدین شکر گنج میرے خاندان کے لوگ ہیں اور اب پھر بھی اس نے وعدہ کیا ہے کہ میں تیری اولاد پر فضل کروں گا۔ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے۔کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم ﷺ کے لئے بھی آیا ہے۔ولا یعصینک فی معروف۔اب کیا ایسے لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ایک سر ہے میں تم میں سے کسی پر ہر گزید خلن نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں کسی کو اندر ہی اندر دھو کہ