تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 280
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 272 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر ا۔حواشی دو سراباب (فصل اول) اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات (از حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز صفحه ۱۳- ۱۵ و حیات بقاپوری حصہ چهارم -۲- تذکرہ طبع دوم صفحہ اے۔تذکره طبع دوم صفحہ ۲۸۔-۴- تذکره طبع دوم صفحه ۷۹ ۴ والبدر ۲۰/ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۵ - ۲۶ - ۵- تذکره طبع دوم صفحه ۵۳۵ - 1 تذکره طبع دوم صفحه ۶۰۷ ے۔تذکرہ طبع دوم صفحه ۴۱۴۔تذکره طبع دوم صفحه ۷۰۰-۷۰۱ تذکره طبع دوم صفحه ۷۲۸ -۱ الفارق صفحہ ۶ مولفہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب جناب مولوی محمد علی صاحب اپنے رسالہ " شناخت مامورین " صفحہ ۲۰ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے اپنا دلی عقیدہ یوں بیان کرتے ہیں۔" حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں اپنے الہامات کو کتاب اللہ اور حدیث پر عرض کرتا ہوں اور کسی الہام کو کتاب اللہ اور حدیث کے مخالف پاؤں تو اسے کھنگار کی طرح پھینک دیتا ہوں"۔حالانکہ حضور نے معاذ اللہ ایسا ہرگز ہرگز کہیں نہیں لکھا۔جناب مولوی محمد علی صاحب کا مندرجہ بالا مسلک خود بخود تا رہا ہے کہ "سلسلہ قبول الہامات میں سب سے کچا مولوی کون ہے؟ ۱۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک دوسرا العام اخرج منه اليزيديون ہے ( تذکرہ طبع دوم صفحہ ۱۸۱) چنانچہ ان اصحاب کا اہلبیت کے بارے میں یہ نظریہ رہا ہے کہ اہلبیت کا وجود جیسے کہ پہلے قوم کے لئے موجب ابتلاء اور تفرقہ اہل اسلام ہوا ایسا ہی اب بھی ہوا۔" (پیغام صلح 4 جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ۳ فاروق ۱۴/ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحه ۲ کالم ۳ ۱۴ سیرت المهدمی حصہ اول صفحه ۱۷ طبع دوم ۱۵ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحه ۴۱ ان رفقاء میں سر فہرست مولوی محمد علی صاحب ہیں چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب سے اپنے دیرینہ تو نہ تعلقات کا ذکر پاس الفاظ کیا ہے۔" خواجہ صاحب مرحوم حضرت صاحب کی بیعت میں داخل ہو چکے تھے اور میں ابھی تک داخل نہ ہو ا تھا لیکن خیالات میں اس قدریکا نگت تھی کہ ہمارے تعلقات بہت ترقی کر گئے (پیغام صلح ۲۶ / د سبرا ۱۹۵ء صفحه ۱۴) ۱۷- چشمه مسیحی حاشیه صفحه ۳۵ ۱۸- فتح اسلام صفحہ ۷۰ طبع اول ذکر حبیب صفحہ ۷۵ ۷۶ ۷۷ اقتباس از خط مولوی محمد علی صاحب مولفہ مفتی محمد صادق صاحب ۲۰ حقیقت اختلاف صفحه ۹ ۲۱۔حقیقت اختلاف صفحه ۹ ۲۲۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے احمدیت کو اختیار کرنے کے بعد بعض ایسے عقائد کا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔جو صحیح اسلامی تعلیم کے خلاف اور حضرت اقدس کے بیان کردہ عقائد کے خلاف تھے۔اس لئے حضور نے ان کو جماعت سے خارج کر دیا تھا۔