تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 8
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 8 حضرت خلیفہ اول اور آپ کا عہد خلافت تجربہ حاذق طبیب تھے۔اور یہ خاکسار ایک نادان بچہ تھا۔آج تک یہ بات یاد آنے پر پیشانی عرق انفعال سے نم ہو جاتی ہے۔کہ کیسی احمقانہ جرأت کا ارتکاب خاکسار سے ہوا کہ وفور محبت میں سب کچھ بھول گیا۔اور عرض کی کہ اگر حضور چائے الائچی کی آمیزش کے ساتھ نوش فرما ئیں تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تکلیف کا ازالہ فرمائے۔کیا ہی دل لبھانے والی وہ مسکراہٹ تھی اور کس قدر پر شفقت دہ نگاہ تھی اور کیا ہی دلنواز وہ انداز تھا۔جس میں آپ نے فرمایا۔میاں ہمارا تجربہ تو یہ ہے کہ ہمیں دودھ کی ملاوٹ کی وجہ سے چائے کے استعمال کے نتیجے میں اسہال کی تکلیف ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی کسی خادم کو ارشاد فرمایا۔ہمارے ایک پیارے نے یہ تجویز کی ہے اندر کہہ دو الا بچی ڈال کر چائے تیار کریں اور ہمیں بھیج دیں ہم اسے استعمال کریں گے۔امتحان کا نتیجہ معلوم ہو جانے کے چند دن بعد خاکسار سفر انگلستان کی تیاری کرنے کے لئے دار الامان سے سیالکوٹ چلا گیا۔اور تیاری مکمل ہو جانے پر والد صاحب والدہ صاحبہ ماموں جان میاں جہاں (جو ہمارے دادا جان کے وقت سے ہماری زمینوں کا انتظام کیا کرتے تھے ) اور خاکسار دار الامان حاضر ہوئے تا خاکسار حضرت خلیفتہ اصبح اول سے بعد دعا سفر پر روانہ ہو۔اس دفعہ دارالامان میں قیام کا عرصہ بہت مختصر تھا۔نمالنا ایک دن رات ہی میسر آسکے۔میاں جہاں اپنے کام میں تو خوب ہو شیار تھے لیکن لکھے پڑھے نہ تھے اور روحانی مجالس کے آداب سے بھی چنداں واقف نہیں تھے پہلی دفعہ انہیں قادیان حاضر ہونے کا موقعہ ملا تھا۔گھر سے فیصلہ کر کے روانہ ہوئے تھے کہ دار الامان پہنچ کر بیعت کا شرف حاصل کریں گے۔چنانچہ بعد نماز عصر حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں بیعت قبول کئے جانے کی درخواست کی۔آپ نے ارشاد فرمایا۔کچھ دن ٹھریں۔میاں جہاں نے کمال سادگی سے عرض کیا۔حضور مجھے تو کل چوہدری صاحب (والد صاحب مرحوم) کے ہمراہ جاتا ہے۔آپ نے ہنستے ہوئے فرمایا تو پھر آپ چوہدری صاحب کی بیعت کریں ہماری بیعت کیوں کرتے ہیں۔کیسے مختصر الفاظ میں آپ نے عمد بیعت کی حقیقت اور اس کا مفہوم واضح فرما دیے۔بیعت کے معنے تو ہیں بک جانا۔جب آپ ہمارے ہاتھ پر بک گئے تو ہماری اطاعت لازم ہو گئی۔چوہدری صاحب کا یا کسی اور کا پھر کیا دخل باقی رہ گیا۔دنیا جانتی ہے کہ آپ نے اپنے عہد بیعت کو کس طور پر اور کس خوبی سے نباہا تھا۔تب ہی تو اپنے محبوب آقا کے دربار سے یہ سنہری سند خوشنودی پائی۔← چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے خاکسار کو پاس بٹھا کر کمال شفقت سے چند نصائح لکھوائیں جن پر بفضل اللہ خاکسار عمل پیرا ر ہنے