تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 9 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 9

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 9 حضرت خلیفہ اول اور آپ کا عہد خلافت کی توفیق پاتا رہا ہے اور بڑے بڑے فوائد ان سے حاصل کئے ہیں۔فرمایا۔جب سفر ختم ہونے کے قریب منزل مقصود نظر آنے لگے تو اللهم رب السموات السبع و ما اظللن و رب الارضين السبع و ما اقللن و رب الرياح و ما ذرين ورب الشياطين و ما اظللن انى اسئلك خير هذه القرية وخير اهلها وخير ما فيها واعوذ بك من شر هذه القرية وشراهلها وشر ما فيها اللهم ارزقنا حباها واعدنا من و باها اللهم حببنا الى اهلها وحبب صالحى اهلها الينا مسنون دعا پڑھا کرتا - اللهم ارزقني جليسا صالحا کا ور د ر کھنا۔قرآن کریم میں جس قدر میسر ہو رو زانہ پڑھنا۔ہمیں خط لکھتے رہنا تا دعا کی تحریک ہوتی رہے۔ہر ملک میں شرفاء کا طبقہ ہوتا ہے وہاں کے شرفاء سے میل جول رکھنا۔اپنے ہم ملک طلباء کے ساتھ زیادہ ربط نہ بڑھانا۔وہ ملک سرد ہے لوگ کہتے ہیں سردی کی مدافعت کے لئے شراب کی ضرورت پیش آتی ہے۔ہم طبیب ہیں اور ہم کہتے ہیں یہ بات غلط ہے۔اگر سردی سے بچاؤ کے لئے کچھ پینے کی ضرورت محسوس کرو تو کو کو استعمال کرو۔یہ آخری ملاقات تھی۔لیکن خط و کتابت کے ذریعے نصف الملاقات کا شرف انگلستان بیٹھے ہوئے بھی نصیب ہو تا رہا۔ہر عریضے کا جواب بالالتزام آپ دست مبارک سے رقم فرماتے اور خطاب بدلتے رہتے۔کبھی تو صرف پیارے السلام علیکم پر اکتفا فرماتے۔کبھی ارشد وارجمند باشی۔السلام علیکم۔کبھی ظفر اللہ باشی السلام علیکم وغیرہ۔خاکسار اگر تعطیل کے ایام میں انگلستان سے باہر جانے کا ارادہ کرتا تو پہلے آپ کی خدمت میں اجازت کی درخواست ارسال کرتا اور اجازت ملنے پر سفر اختیار کرتا۔چنانچہ ایک بار اجازت کی درخواست کے جواب پر ارشاد تحریر فرمایا کوئی دینی یا دنیوی مقصد سامنے رکھ لو۔اجازت ہے۔آخری بیماری میں بھی خاکسار کا عریضہ اجازت سفر کے بارے میں خدمت اقدس میں پہنچا تو دست مبارک سے اجازت تحریر فرمائی اور خاکسار کو آپ کا ارشاد آپ کے وصال سے چند دن قبل وصول ہو گیا ان دنوں قادیان سے لندن خط پہنچنے میں ۱۷-۸ اون صرف ہوا کرتے تھے۔۱۹۱۲ء میں خواجہ کمال الدین انگلستان تشریف لے گئے تھے۔لندن پہنچنے پر انہوں نے اسی مکان میں قیام پسند فرمایا جس میں خاکسار ٹھہرا ہوا تھا۔ایک دن شام کے وقت سیر کے دوران میں خواجہ صاحب نے اپنے دو خواب خاکسار سے بیان کئے جن کا ذکر یہاں غیر متعلق نہ ہو گا۔