تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 7 حضرت کا محمد خلافت کے آنے پر مجلس برخاست ہو جاتی اور شیخ تیمور صاحب۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال مرحوم اور ایک دو شاگرد حاضر خدمت رہ جاتے۔ڈاکٹر صاحبان کے چلے جانے کے بعد آپ کچھ دیر استراحت فرماتے اور جو خدام حاضر ہوتے ان میں سے کوئی آہستہ آہستہ بدن دبا تا۔ایک دن اتفاق سے ڈاکٹر صاحبان کے چلے جانے پر فقط خاکسار ہی حاضر تھا۔چنانچہ اس خدمت کی سعادت خاکسار کے حصے میں آئی۔چند منٹ دبانے کے بعد خاکسار کو خیال ہوا کہ شاید آپ سو گئے ہوں اور مزید دبانے سے آپ کے آرام میں خلل آئے اس لئے خاکسار نے ایک لحظہ اپنے ہاتھ تھام لئے۔آپ سوئے نہیں تھے اور یہ محسوس کر کے کہ خاکسار اٹھنے کو ہے آپ نے اپنا بازو اٹھا کر خاکسار کے گلے میں ڈالا اور خاکسار کے چہرے کو نیچا کر کے اپنے مبارک چھرے کے ساتھ لگا لیا۔دو تین منٹ اسی حالت میں گذرے۔خاکسار نے اندازہ کیا کہ آپ دعا فرما رہے ہیں۔پھر اپنا بازو ہٹا لیا اور لیٹے لیٹے ہی فرمایا میاں ہم نے تمہارے لئے بہت بہت دعائیں کی ہیں۔غرض خاکسار کے قیام دار الامان کا وہ عرصہ اسی کیفیت میں گذرا کہ تمام دن آپ کی مجلس میں گزرتا اور خاکسار پیم آپ کی محبت و شفقت اور ذرہ نوازیوں سے بہرہ ور ہو تا۔فالحمد لله على زالک اسی اثناء میں امتحان کا نتیجہ نکل آیا۔خاکسار آپ کی مجلس برخاست ہونے پر محسنم و مشفقم حضرت صاجزادہ میرزا بشیر احمد صاحب غفر الله وجعل الله الجنة العليا مثواه ) کے دولت کدے پر دوپہر کے کھانے کے لئے گیا۔وہاں پہنچنے پر محترمی جناب مبارک اسماعیل صاحب کا کار ڈلا ہو ر سے لکھا ہو ا ملا۔جس میں یہ خبر درج تھی کہ بی۔اے کے امتحان کا نتیجہ نکل آیا ہے۔اور تم بفضل اللہ اول درجہ میں پاس ہو گئے ہو خاکسار کارڈ ہاتھ میں لئے الٹے پاؤں پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔اور خاموشی سے کارڈ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔پڑھ کر آپ بہت خوش ہوئے اور خاکسار کو مبارکباد اور دعا دی۔اس دن سہ پہر کی مجلس میں جو صاحب بھی حاضر ہوتے آپ انہیں مخاطب کر کے فرماتے۔آج ہمیں ایک بہت خوشی کی خبر ملی ہے۔اور خاکسار کی طرف اشارہ کر کے فرماتے یہ امتحان میں اول درجے میں پاس ہو گئے ہیں۔اور تعجب ہے کہ انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ پاس ہو جائیں گے۔یہ آخری جملہ بھی اظہار خوشنوری کا ایک طریق تھا ورنہ خاکسار نے تو اپنے رقعے میں صرف اتنا گذارش کیا تھا کہ پر چھے بفضل اللہ اچھے ہو گئے ہیں اور امید ہے کہ خاکسار پاس ہو جائے گا۔ایک دن آپ نے فرمایا ہمیں بار بار پیاس محسوس ہوتی ہے ڈاکٹروں نے جو کچھ تجویز کیا ہم نے کر دیکھا ہے۔کچھ افاقہ نہیں ہوا۔ڈاکٹروں کی تجویز میں تو الگ رہیں آپ خود ملک بھر میں چوٹی کے صاحب