تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 264
تاریخ احمد بیست - جلد ۳ 256 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر اس مجلس میں ہی نہیں جاؤں گا۔اور کہیں باہر چلا جاؤں گا۔آخر جب اضطراب اور بڑھا تو آپ کو الہام ہوا۔قل ما يعبثو بكم رہی لو لادعاء کم اس الہام سے آپ کا شرح صدر ہو گیا اور آپ سمجھے کہ آپ کا خیال ہی درست ہے۔اور جو اس کے خلاف خیال رکھتے ہیں ان کو کہہ دو کہ یورپ کی تقلید میں کامیابی اور فلاح نہیں دینی سلسلہ ہے اس لئے جس طرح خدا کے نبیوں کے خلیفے ہوتے رہے اسی طرح یہاں بھی خلافت ہی ہوگی۔لیکن اگر وہ باز نہیں آئیں گے تو خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں۔کامیابی اسی میں ہے کہ وہ خدا کے حضور گر جائیں اور زاری کریں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو خدا کا عذاب موجود ہے اس طرح جب آپ پر خدا نے حقیقت واضح کر دی تب آپ نے اپنی رائے لکھ کر بھیج دی کہ خلیفہ انجمن پر حاکم ہے نہ کہ انجمن خلیفہ پر۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب لکھتے ہیں۔”میاں صاحب کی دوسرے ممبران انجمن کا جواب ہارٹی نے تو میں کہا تھ اور میں کہا کہ حضور سرکار جو کچھ ہے خلیفہ ہی ہے انجمن کیا بلا ہوتی ہے۔لیکن باقی تمام ممبروں نے جن میں مولوی محمد علی صاحب۔خواجہ کمال الدین مرحوم۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ مرحوم شیخ رحمت اللہ مرحوم۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ مرحوم۔۔۔وغیرہ تھے صاف لفظوں میں لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کی رو سے ان کی جانشین انجمن ہے حضرت صاحب نے کسی فرد واحد کو اپنا جانشین نہیں بنایا۔یہ اور بات ہے کہ اس انجمن نے بالا تفاق آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آپ کو اپنا مطاع بنالیا۔تو اس کا اپنا ذاتی فعل ہے وہ وصیت کے ماتحت ایسا کرنے پر مجبور نہ تھی۔خواجہ صاحب کا لاہور میں جلسہ خواجہ کمال الدین صاحب کا جوش اس موقعہ پر صرف یہ جواب دینے سے ہی فرو نہیں ہوا بلکہ وہ پوری طرح بغاوت کا علم بلند کئے ہوئے میدان عمل میں آگئے۔اور انہوں نے اپنے مکان پر لاہور کے احمدیوں کا جلسہ کر کے لوگوں کو سمجھایا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے اصل جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی۔تو جماعت خطرہ میں پڑ جائے گی اور سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔خواجہ صاحب کی اس تحکم آمیز تقریر سے متاثر ہو کر سب لوگوں نے دستخط کر دئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مطابق انجمن ہی آپ کی حقیقی جانشین ہے۔صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکرٹری انجمن احمد یہ لاہور اوربا بو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفتر لاہور نے دستخط کرنے سے انکار کیا اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت اللہ رکھتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے جو کچھ وہ کہے گا ہم اس