تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 265 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 265

تاریخ احمدیت جلد ۳ کے مطابق عمل کریں گے۔۵۲ 257 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر مولوی محمد علی صاحب اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ان سوالات کے لاہور پہنچنے پر خواجہ صاحب سے بلاشبہ یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے بجائے علیحدہ علیحدہ جواب لکھنے کے جو مولوی صاحب کا منشاء تھا احباب لاہور کا جلسہ کر کے سب کی متفقہ رائے ان پر لے کر اسے لکھ بھیجا۔دوسری طرف قادیان میں شیخ یعقوب علی صاحب نے اپنے مکان پر جلسہ کر کے وہاں جو کچھ چاہا۔کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ فتنہ بڑھ گیا اور قادیان اور لاہور میں ہر جگہ یہی باتیں ہونے لگیں۔خواجہ صاحب کے زہریلے پراپیگنڈا کا اثر خواجہ صاحب اپنے دوستوں کے کیثر مجمع کے ساتھ پورے جوش و خروش کے ساتھ قادیان میں وارد ہوئے اور لوگوں میں برابر اشتعال پھیلاتے رہے۔کہ اگر اس وقت قدم پھسل گئے تو جماعت تباہ ہو جائے گی خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کی ایک میٹنگ مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں بھی ہوئی جس میں اول شیخ یعقوب علی صاحب کے مکان والے جلسہ کی رو نداد سنائی گئی جس میں یہ بتایا گیا کہ جلسہ اس اتفاق پر ختم ہوا کہ ہمیں خود کوئی فیصلہ نہ کرنا چاہئے۔کل خلیفتہ المسیح اس بارے میں جو فیصلہ فرما ئیں اس پر کار بند ہونا چاہئے۔اس پر خواجہ صاحب کے بعض رفقاء نے کہا کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے ہمیں جمہوریت پسند خلیفہ دیا ہے جس کی نسبت ہمیں یقین ہے کہ وہ کبھی یہ فیصلہ نہیں کرے گا۔خلیفہ حاکم اور انجمن اس کے ماتحت ہے مگر مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ اگر مولوی صاحب نے انجمن کے تابع و محکوم ہونے کا فیصلہ کیا۔تو میں کام چھوڑ کر لاہور جا کر بیٹھ جاؤں گا۔شیخ رحمت اللہ صاحب کا جوش اس دن خاص طور پر بڑھا ہوا تھا جو شخص بھی ان کی رائے کے خلاف رکھنے والا ان کو ملا اس کو سخت ست کہتے رہے حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب کو (جنکو قبلہ کہا جا تا تھا، تو انہوں نے گندی گالیاں دیں اور اگر وہ الدار میں تشریف نہ لے جاتے تو شاید زدو کوب تک نوبت جا پہنچتی۔خواجہ صاحب اور ان کے پراپیگنڈے کے نتیجہ میں قادیان میں بہت اشتعال پھیل گیا تھا اور انجمن کے حامیوں میں سے بعض لوگ صاف کہتے تھے کہ اگر مولوی صاحب (خلیفہ اول) نے خلاف فیصلہ کیا تو ان کو اسی وقت خلافت سے علیحدہ کر دیا جائے گا بعض خاموشی سے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے منتظر تھے۔بعض بالمقابل خلافت کی تائید میں جوش دکھا رہے تھے اور خلافت کے قیام کے لئے ہر ایک قربانی پر آمادہ تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے اس جوش و خروش کے مظاہرہ کی بابت لکھا ہے کہ " قبل اس کے