تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 263 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 263

اریخ احمدیت۔جلد ۳ 255 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر شخص ہو بلکہ ایک جماعت بھی ہو سکتی ہے۔اور یہ اس واسطے بھی ہے کہ انجمن کے واسطے حضرت اقدس نے دعا کی ہے کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں اور خاص طور پر اگر اس امانت کے قابل کسی ایک فرد واحد کو سمجھا ہے تو وہ حضرت مولوی نور الدین صاحب ہی ہیں۔نہیں؟ (سوال) خلیفہ بطور خود اشاعت اسلام وغیرہ جماعت احمدیہ کی مدات کا انتظام کر سکتا ہے یا (جواب) انجمن کو ایک مامور من اللہ نے الہام الہی کے مطابق قائم کیا ہے اگر کوئی خلیفہ مامور من اللہ ہو تو وہ پھر مطابق منشاء الہی اس میں جو چاہے گا تغیر کر سکے گا۔دوسرے کے واسطے جائز نہیں۔(سوال) خلیفہ کے حکم صدرانجمن مسترد کر سکتی ہے یا نہیں؟ (جواب) حضرت صاحب نے جا کہ ادوں اور مالوں اور مکانوں کا صرف محافظ ہی نہیں بنایا بلکہ ان کا مالک بھی قرار دیا ہے ہاں صرف یہ روک ہے کہ اس انجمن کا کوئی ممبر کسی جائداد یا مال کو اپنے ذاتی اغراض میں خرچ نہیں کر سکتا اور نہ ہی خود انجمن سوائے اغراض سلسلہ کے کسی طرح پر خرچ کر سکتی ہے۔۔حضرت خلیفہ اول کی طرف سے جماعتی شوری کا حکم مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔اس جواب کے پہنچنے پر حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔کہ ان سوالات کو جواب کے لئے چالیس آدمیوں کے پاس بھیجا جائے اور ان کی رائے سے انہیں اطلاع دی جائے اور ۳۱/ جنوری ۱۹۰۹ء کے دن وہ جمع ہوں"۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ابھی ان سوالات کی نقل حضرت صاجزادہ صاحب کو نہیں پہنچی تھی۔کہ آپ پر رویا میں صاحب پر فتنہ کا انکشاف اور آپ کا جواب اس فتنہ کا انکشاف ہوا۔جس کا تفصیلی ذکر آئینہ صداقت میں موجود ہے اس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح اول اے نے آپ کو بھی سوالات بھیجوائے اور ان کا تحریری جواب دینے کے لئے ارشاد فرمایا۔چونکہ یہ معاملہ نہایت نازک اور اہم تھا اس لئے اگر چہ آپ خلیفہ کو انجمن کا مطاع سمجھتے تھے۔لیکن آپ نے دعا کے بغیر اپنی رائے دینا نہ چاہی اور دعا میں مصروف ہو گئے۔لیکن آپ کو کچھ تقسیم نہ ہوئی آخر ۳۰/ جنوری ۱۹۰۹ء کو آپ میں سخت اضطراب پیدا ہوا اور آپ نے فیصلہ کر لیا کہ چونکہ مجھے خدا کی طرف سے کچھ نہیں بتایا گیا اس لئے میں