تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 241
تاریخ احمدیت جلد ۳ 233 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز حواشی (حصه دوم بابا ا۔جناب مولوی محمد علی صاحب کی کتاب "حقیقت اختلاف صفحه ۱۲۹ شائع کردہ انجمن اشاعت اسلام) سے ماخوذ "مجاہد کبیر "صفحہ -4 -41 یعنی دیانت سوڈا واٹر فیکٹری والے احاطہ کا مکان جہاں بعد میں ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب بھی رہے ہیں کسی زمانہ میں یہاں ر خان صاحب لائبریری تھی اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کا دفتر ہوا کرتا تھا۔الحکم ۲۸/ فروری ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۔اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۵۸۹ - جناب مولوی محمد علی صاحب مرحوم نے اس واقعہ کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی ہے فرماتے ہیں۔جہاں تک مجھے علم ہے اس وقت خواجہ صاحب کو یہ ضرورت پیش آئی تھی۔کہ اہل بیت کے متعلق اطمینان کرلیں۔کہ دہ حضرت مولوی صاحب مرحوم کی خلافت سے انکار نہ کر دیں اور ادھر سے کچھ اشارہ بھی میاں صاحب کے متعلق ہوا تھا۔مگر جماعت کے عام رجحان اور میاں صاحب کی کم عمری کی وجہ سے واقعی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔حقیقت اختلاف صفحہ ۳۰۔یہ تو مولوی محمد علی صاحب کا لکھا ہوا واقعہ ہے اب مولوی صاحب کے سوانح نگاروں نے اسے بھی بدل کر کیا کچھ بنادیا ہے۔اس کے لئے مجاہد کبیر" کی یہ عبارت ملاحظہ ہو۔پہلے خواجہ کمال الدین صاحب و دیگر اصحاب کو جو آپ کی خدمت میں درخواست لے کر گئے تھے۔آپ نے ایک دو نام تجویز کر دئے۔پھر دوبارہ سب کے اصرار پر آپ نے فرمایا کہ میاں محمود احمد صاحب اور میر ناصر نواب صاحب کا اس پر اتفاق نہیں چنانچہ میاں محمود احمد صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں اپنی والدہ سے مشورہ کر کے بتاؤں گا اور بعد از مشورہ انہوں نے اور میر ناصر نواب صاحب نے جب مولانا نور الدین صاحب پر اتفاق ظاہر کیا تب آپ نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کی " (صفحہ ۷۲) خط کشیدہ عبارت تاریخی حقائق کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کو ہم نرم اور محتاط ترین الفاظ میں صرف ذہنی تخیل داختراع ہی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔یہ بات وضع کرنے والے اگر اس حقیقت کو یکسر فراموش کر گئے کہ خواجہ صاحب موصوف حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور حضرت میر ناصر نواب صاحب اور حضرت ام المومنین سے استصواب اور ان کی رضامندی کے اظہار کے بعد گئے تھے۔پھر یہ بھی غلط ہے کہ خواجہ صاحب اور دوسرے وفد کے سامنے آپ نے کوئی اور نام خلافت کے لئے رکھے تھے۔یہ بات تو آپ نے پہلی تقریر میں تمام احمدیوں کے سامنے کہی تھی۔(بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۸ کالم۔اسی طرح خلافت کی ذمہ داری آپ نے اس لئے نہیں سنبھالی کہ آپ کو اہل بیت کے اتفاق کا علم ہو چکا تھا۔بلکہ اس لئے کہ پوری جماعت نے آپ پر اعتماد کا اظہار کیا تھا (بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ کالم ) غرضکہ کہاں تک لکھا جائے۔یہ خط کشیدہ عبارت محض مفروضہ ہے۔اصلی واقعات وہی ہیں جو سلسلہ کے قدیم لٹریچر کے حوالہ کی روشنی میں درج کئے گئے ہیں۔اخبار بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ کالم۔اس کے آگے یہ الفاظ ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھی اسی پر اتفاق کیا۔" حیات نور الدین صفحہ ۱۵۷ الفضل ۱۲۳ فروری ۱۹۵۵ء صفحه ۴ کالم ۱-۲ بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ ( تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۵۹-۵۲۰) - الحکم ۶ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۸۰۷ پدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷۶ الله ضمیمه الحكم ۲۸/مئی ۱۹۰۸ء کے مطابق بیعت کے الفاظ یہ تھے۔اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله تین بار۔آج میں نور الدین کے ہاتھ پر تمام ان شرائط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں جن شرائط سے