تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 242
ریت - جلد ۲ - 234 احمد بیت میں نظام خلافت کا آغاز سیح موعود اور مہدی محمود بیعت لیا کرتے تھے۔اور نیز اقرار کرتا ہوں کہ خصوصیت سے قرآن و سنت و احادیث صحیحہ کے پڑھنے سننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور اشاعت اسلام میں جان ومال سے بقدر وسعت و طاقت کمر بستہ رہوں گا۔اور انتظام زکوۃ بہت احتیاط سے کروں گا۔اور باہمی اخوان میں رشتہ محبت کے قائم رکھنے اور قائم کرنے میں سعی کروں گا۔استغفر الله ربي من كل ذنب واتوب اليه ( تین بار) رب انی ظلمت نفسی و اعترفت بذنبي فاغفرلی ذنوبي فانه لا يغفر الذنوب الا انت۔(ترجمہ) اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں۔میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔آمین۔" ۱۲ اصحاب احمد جلد دہم صفحہ۔۱۳ ضمیمہ الحکم ۲۸ مئی ۱۹۰۸ ء و بدر ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحها الم -۱۴- یہ خواجہ کمال الدین صاحب کے ایک غیر مطبوعہ مضمون کا اقتباس ہے جو آپ نے لندن سے ۶ جولائی ۱۹۱۳ ء کو ایک خداداد شہادت " کے عنوان سے بدر میں شائع کرنے کے لئے لکھا تھا ( اصل مضمون میاں عبد المنان صاحب عمر کے پاس محفوظ ہے) الحکم نمبر ۸ جلد ۱۳ صفحه ۷۶ - ۲۸/ فروری ۱۹۰۹ء۔۔بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازہ کی تدفین کا مفصل واقعہ تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۶۳ - ۵۶۴ میں آچکا ہے الفضل ۲۷ اپریل ۱۹۲۶ء صفحہ ۵ کالم ۱۔۱۔حیات نور الدین صفحه ۱۵۸۔۱۹ حیات نور الدین صفحه ۱۵۸ ۲۰ مکمل مخط کے لئے ملاحظہ ہو ر سالہ خالد مئی ۱۹۶۱ء صفحہ ۲۔۴ ۲۱۔حضور کے وصال پر فرضی جنازہ بنانے کا واقعہ تاریخ احمدیت حصہ سوم میں آچکا ہے۔اس اخلاق سوز واقعہ سے خدا ناترس علماء نے کس درجہ خوشی کا اظہار کیا۔اس کا اندازہ رسالہ " المجدد " (لاہور) کی اس عبارت سے ہو سکتا ہے عبارت ملاحظہ ہو۔لکھنے والے کذاب نے حضور کی ذات بابرکات کی شان اقدس میں جس درجہ دریدہ دہنی اور بے باکی اور گستاخی کا مظاہرہ کیا ہے۔اس ے علماء هم شر من تحت اديم السماء " کا عملی ثبوت ملتا ہے۔اور اس عصر کی گندی ذہنیت آشکار ہو جاتی ہے۔لکھا ہے۔قدرت ایزدی نے طبقہ جہلاء کے ہاتھوں اس خدا اور رسول کے دشمن کی رسوائی اور بے عزتی کرائی کہ آج تک کسی مفتری ملعون اور کذاب کی نہیں ہوئی۔یعنی طبقہ جہلا کا صف ماتم بنانا اور اس کے اندر ایک مثیل مرزا کی لاش کو لٹانا اور پھر سب کا مکر ایسے مضحکہ خیز اور نحش و گندے الفاظ سے مرزا کادیانی کی نوحہ خوانی کرنا اور پھر ایک شخص کادو سرے سے کہنا کہ اس کا ذب) نہی کا چہرہ تو کھاؤ امید ہے کہ نبی کا چہرہ بہت نورانی ہو گا۔لیکن جب اس کا ذب نبی یعنی مشیل مرزا کے چہرہ سے کپڑا اٹھایا جاتا تو اس کا منہ کالا نظر آتا اور پھر مرزا کے مرنے پر فورا اس کی موت گاہ کے باہر پولیس کا پہرہ لگ جانا اور پھر اسے ملعون کا جوتیوں کے ساتھ جنازہ پڑھا جاتا۔اور اس کا جنازہ سیشن کی طرف لے جاتے ہوئے طبقہ جہلاء کا اس کے جنازے پر نجاست پھینکنا اور پھر اسی ریل پر کہ جس کو دہ خود خرد جال کہا کرتا اور طرفہ ترین یہ کہ واقعی گدھوں والی گاڑی میں مرزا یعنی دجال کی لاش ڈالی گئی۔گویا مرزاد جال کو گدھے پر سوار کرایا گیا۔( المجد و جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰) علماء ہم" کے جوش غیظ و غضب کی انتہاء یہ ہے کہ بعض مخالفین نے عبرت ناک موت" کے نام سے ایک کتابچہ میں ایک فرضی تصویر حضور کی وفات کے وقت کی بنائی ہے جسے کوئی ذرہ بھر شرافت و دیانت رکھنے والا انسان دیکھنا تک گوارا نہیں کر سکتا۔تصویر میں طبقہ جہلا کا ہجوم بھی دکھایا ہے۔خدا کی قدرت کہ وہ شخص جس کا مصنوعی جنازہ بنا کر لاہور کے گلی کوچہ میں پھرایا گیا اور جس کا نام تاج دین عرف بلا تھا بعد میں احمدی ہو گیا تھا۔( ہدایت کر تل بشیر حسین صاحب مری) ۲۲ چیسہ اخبار کو الہ الحکم الرجولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۶ کالم ۱۔۳۔۲۳ المجد د (لاہور) جون ۱۹۰۸ء۔پیر صاحب موصوف کے مریدوں نے تو بس حدی کردی۔کہ حضرت اقدس کی وفات کو اپنے پیر کی