تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 240 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 232 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز دیں گے۔تب خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے طریق کے مطابق کہا کہ دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ہمارا مطلب بعینہ وہی تھا جو میاں صاحب نے بیان کیا ہے یہ خواجہ صاحب کا عام طریق تھا کہ جب وہ دیکھتے کہ ان کی کسی بات کو لوگوں نے پسند نہیں کیا تو کہتے کہ دوستوں کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔چنانچہ پھر انہوں نے اس غلطی فہمی کو دور کرنے کے لئے ایک تقریر بھی کی۔مگر آخر میں کہا کہ اس پر مزید غور کر لیا جائے ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔بعد میں ہم خط و کتابت کے ذریعہ مشورہ حاصل کرلیں گے۔انہوں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح جماعت کی رائے ان کی تائید میں ہو جائے۔چنانچہ کچھ وقفہ کے بعد انہوں نے پھر تمام جماعتوں سے رائے طلب کی۔مگر جماعت نے یہی لکھا کہ وہی فیصلہ ٹھیک ہے جو ہم قادیان میں کر کے آئے تھے۔۱۹۰۸ء کے بعض متفرق واقعات ۱۹۰۸ء کے بعض متفرق واقعات یہ ہیں:۔ا مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کئی ماہ تک عبد الغفار خان و غلام رسول خاں صاحب پہرہ دیتے رہے۔حضرت خلیفہ اول نے تحریک فرمائی کہ خوشنویس حضرات یہاں مرکز میں آکر ر ہیں تا سلسلہ کے کام بروقت ہو سکیں۔ایک مکمل و مفصل فہرست تیار کی ایک اہم تحریک آپ نے یہ فرمائی کہ جماعت مبایعینی جائے۔تا قادیان سے جو کچھ شائع ہو جلد سے جلد جماعت کے ہر فرد تک پہنچ جائے۔۴۔قادیان کو نوٹیفائڈ ایریا قرار دیا گیا۔A اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔لالہ شرمیت رائے اور مرزا نظام الدین اس کے ممبر قرار پائے اور اس کا پہلا اجلاس ۲۱ / جولائی ۱۹۰۸ء کو تحصیلدار بٹالہ کی صدارت میں قادیان میں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تالیفات مسیح ہندوستان میں۔نجم الہد کی اور براہین احمدیہ حصہ پنجم جو ابھی تک غیر مطبوعہ تھیں شائع ہو ئیں۔۔بعض مقامی ضروریات کی وجہ سے حضرت خلیفتہ المسیح نے صوبہ سرحد کے کمشنر کو ایک وفد بھیجوایا۔کمشنر نے وفد کی معروضات سن کر ان کا تسلی بخش جواب دیا۔