تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 231 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 231

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 223 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز دلوں کو تڑپا دیا اور آنکھوں سے مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اس مرضیہ کے چند اشعاریہ تھے: مسیحا سب ترے خادم ہیں حاضر مگر تجھ بن تڑپتے ہیں یہ مضطر ہوئے ہیں ہجر میں مردوں سے بدتر جلا تو اب انہیں صورت دکھا کر ز مهجوری برآمد جان عالم ترحم یا نبي الله ترحم يحرم میر پھر تشریف لائیں تو سب خادم دو رویہ صف بتائیں بشوق دید آنکھوں کو بچھائیں زبان حال سے یہ پڑھ سنائیں کرده فرش راہند چو فرش اقبال پابوس تو خواهند جہانے دیده جلوس میر ہے جب یاد آتا نہیں تجھے بن ہمیں جینا بھاتا بده بکن دل بے تاب ہے قابو سے جاتا فرقت ہے یا حضرت ستاتا غم رتے ز پا افتاد گال را دلداری دلدادگان را سالانہ جلسه ۱۹۰۸ ء جہاں احمدیوں کے غیر خلیفہ وقت سے انحراف کا پہلا پبلک مظاہرہ معمولی اجتماع کے باعث خدائی تائید و نصرت کا نمونہ تھا۔وہاں اس کے بعض نہایت تلخ اور تکلیف دہ نتائج بھی برآمد ہوئے جو آئندہ چل کر جماعت کے اشتقاق و افتراق کی مستقل بنیاد ثابت ہوئے اور اس کی ذمہ داری انجمن کے چند جمہوریت پسند اور مغربیت کے دلدادہ ممبروں پر تھی۔اس امر کا تفصیلی پس منظر تو اگلے سال کے واقعات میں آئے گا یہاں ہم اجمالاً یہ عرض کرتے ہیں کہ گو خدائی تصرف کے مطابق پوری جماعت خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو چکی تھی اور خود انجمن کے ممبروں نے بھی اس جماعتی رجحان کی تاب نہ لاکر ظاہر ابیعت بھی کرلی تھی۔مگر دل سرے سے خلافت کے قائل ہی نہیں تھے۔اور ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشینی کا حق انجمن کو حاصل تھا نہ کہ خلافت کو۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب ”حقیقت اختلاف " میں اس کا واضح لفظوں میں اعتراف کیا ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں۔” میرا جو کچھ مسلک تھا میں نے اسے ایک منٹ کے لئے بھی کسی سے نہیں چھپایا۔نہ خود مولوی صاحب سے۔۔۔حضرت مسیح موعود کی خلافت کا میں صرف جانشینی کے معنی میں قائل تھا اور آیت استخلاف میں نبی کریم ا کی خلافت کا ذکر مانتا رہا ہوں یعنی جسمانی طور پر بادشاہ آپ کے خلیفے ہوں گے۔اور روحانی طور پر مجد دین۔اس