تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 232
تاریخ احمدیت جلد ۳ 224 tt احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز آیت (یعنی آیت استخلاف ناقل) کو میں صرف نبی کریم کے متعلق مانتا ہوں۔ای طرح خواجہ کمال الدین صاحب لکھتے ہیں۔"اگر خلیفہ اور جانشین ہم معنے اور مترادف ہیں تو پھر خود حضرت مسیح موعود نے اپنا خلیفہ کس کو بنایا۔دیکھو تمہاری انجمن کو خود مسیح موعود نے کہا۔کہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے باقی جس قدر خلیفے ہیں ان کو تم خود انتخاب کرتے ہو۔اور اسی طرح تمہارے انتخاب پر وہ خلیفتہ المسیح ہوتے ہیں۔لیکن انجمن کا نام خود مسیح موعود نے خلیفتہ المسیح رکھا ہے"۔اس سلسلہ میں واضح ترین بیان ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا ہے چنانچہ آپ تحریر کرتے ہیں۔"ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ جناب مرزا صاحب نبی نہ تھے بلکہ آنحضرت ا کے خلیفہ تھے اور خلافت نبوت کی ہوتی ہے۔خلافت کی خلافت ایک بے معنی بات ہے۔" ان کے اس نقطہ نگاہ کے مطابق بیعت خلافت در اصل ایک اصولی غلطی تھی اور اس کا احساس انہیں ابتدا ہی سے پیدا ہو چکا تھا۔چنانچہ حضرت سید نا محمود (خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بیان ہے کہ "حضرت مسیح موعود کی وفات کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب! آپ کا خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کیا خیال ہے میں نے کہا کہ اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جب کہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی۔جب کہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کو سن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے۔میرے اس جواب کو سن کر خواجہ صاحب بات کا رخ بدل گئے " اور کہا بات تو ٹھیک ہے۔میں نے یونسی علمی طور پر بات دریافت کی تھی اور ترکوں کی خلافت کا حوالہ دے کر کہا۔کہ چونکہ آج کل لوگوں میں اس کے متعلق بحث شروع ہے۔اس لئے میں نے بھی آپ سے اس کا ذکر کر دیا۔یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ کی کیا رائے ہے۔اور اس پر ہماری گفتگو ختم ہو گئی۔لیکن اس سے بہر حال مجھ پر ان کا عندیہ ظاہر ہو گیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں حضرت خلیفہ اول بھی یہ کا کوئی ادب و احترام نہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح خلافت کے اس طریق کو مٹا دیں۔جو ہمارے سلسلہ میں جاری ہوا ہے " اس واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انجمن کے ان نام نہاد اکابر عمائمہ کے اندرونی عزائم و خیالات خلافت کے ابتدائی ایام ہی سے کیا تھے اور خلافت کی بیعت ان کی نگاہ میں محض ایک اتفاقی غلطی تھی۔جس کا ارتکاب وہ کر بیٹھے تھے۔چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب صاف لکھتے ہیں:۔” وہ وقت بہت |