تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 230
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 222 احمد جیت میں نظام خلافت کا آغاز نے تصوف کے باریک در باریک اور لطیف در لطیف مسائل سادہ اور آسان پیرائے میں بیان فرمائے۔سید نا محمود کی تقریر: ۲۸/ دسمبر کے اجلاس میں سب سے پہلی تقریر حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تھی۔تقریر کا مضمون یہ تھا کہ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔" یہ تقریر مختصر ہونے کے باوجود اس درجہ موثر اور حقائق و معارف سے لبریز تھی کہ اخبار الحکم نے لکھا۔" آج صبح کی کارروائی شعید الاذہان کے جلسہ سے شروع ہوئی۔حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ اللہ الاحد کی نظم اور آپ کی تقریر نے مردہ دلوں کو جلا دیا۔بلا مبالغہ صاحبزادہ صاحب کی تقریر میں قرآن مجید کے حقائق و معارف کا سادہ اور مسلسل الفاظ میں ایک خزانہ تھا۔پلیٹ فارم سے اس لب ولہجہ سے بول رہے تھے جو حضرت امام علیہ السلام کا تھا اور الولد سر لابیہ کا پورا نمونہ تھا صاجزادہ صاحب کی تقریر کے متعلق مجھے الفاظ نہیں ملتے کہ میں اس کا ذکر کر سکوں۔صاحبزادہ صاحب نے تشنہ حقائق قوم کو باپ کی طرح سیراب کر دیا اور وہی زمانہ یاد دلا دیا۔اللہ تعالٰی آپ کو اس سے بھی زیادہ حقائق و معارف کے موتیوں سے مالا مال کرے۔" آپ کی تقریر کے وقت صدر جلسہ حضرت خلیفہ المسیح اول بنی ہی تھے اور آپ نے اسے سراہا چنانچہ ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھیروی کا بیان ہے۔حضرت خلیفہ اول نے حضور کی قرآن دانی کے متعلق چند تعریفی کلمات فرمائے تو میرے پاس ڈاکٹر بشارت احمد صاحب۔۔۔۔۔۔۔بیٹھے ہوئے جھوم جھوم کر آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے کہ سبحان اللہ سبحان اللہ آپ کے بعد یہی خلیفہ ہوں گے۔میں ڈاکٹر صاحب سے اس وقت اس لئے واقف تھا کہ وہ اس وقت بھیرہ میں ہی تعینات تھے " جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء پر آپ کی ایک نظم بھی پڑھی گئی جس کے چند شعر یہ تھے: مدت سے پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں رنج و محن کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں میری کمر کو قوم کے غم نے دیا ہے توڑ کس ابتلاء میں ہائے ہوا مبتلا ہوں میں پھر کیوں نہ مجھ کو مذہب اسلام کا ہو فکر جب جان و دل سے معتقد میرزا ہوں میں شیطاں سے جنگ کرنے میں جاں تک لڑاؤں گا عمد ذات باری سے اب کر چکا ہوں میں دوسری تقاریر اور نظمیں:۔ان کے علاوہ یہ تقریریں ہو ئیں۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امرد ہوی۔مولوی صدر الدین صاحب - حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب - حضرت میر قاسم علی صاحب نے ایک پر درد مرعیہ پڑھا جس نے