تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 214
تاریخ احمدیت جلد ۲ 206 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز نہیں کسی جلتے تنور میں جھونک دیں اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مورخ تاریخ ہندیا TA تاریخ اسلام میں ان کا نام تک نہ لے۔" خواجہ حسن نظامی صاحب کا مشورہ۔خواجہ صاحب جیسے مرنجان مرنج طبعیت رکھنے والے انسان نے احمدیوں کو مشورہ دیا کہ وہ مرزا صاحب کے دعوئی مسیحیت و مهدویت سے صاف انکار کر دیں ورنہ اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب جیسے سمجھدار اور منظم شخص کی عدم موجودگی کے سبب احمدی جماعت مخالفین کی شورش کو برداشت نہ کر سکے گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔" مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا حملہ: مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو کچھ عرصہ قبل گوشہ تنہائی میں چلے گئے تھے دوبارہ " اشاعۃ السنہ" کے ذریعہ حملے کرنے لگے۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کا فتنہ:۔مخالفین سلسلہ میں جس شخص نے اس موقعہ پر سب سے زیادہ فتنہ اٹھایا۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی تھا۔اس شخص نے بڑے وسیع پیمانے پر بے بنیاد پراپیگنڈا کیا کہ مرزا صاحب کی ہلاکت اس کی پیشگوئی کے مطابق ہوئی ہے۔اس لئے معرکہ حق و باطل میں وہ فاتح ہے۔نیز حضور کی متعدد پیش گوئیوں پر اعتراض کیا۔کہ وہ غلط نکلیں اور آپ چل بسے اسی سلسلہ میں اس نے " اعلان الحق اور اس کا تکملہ وغیرہ شائع کئے۔غرضکہ حضرت کے انتقال پر جماعت احمدیہ پر سچ مچ ایک زلزلہ سابپا ہو گیا اور وہ چاروں طرف سے نرنہ اعداء میں گھر گئی۔مخالفین حق کے ان حملوں کی روک تھام کے لئے سب سے اہم ہتھیار اس وقت جماعت کے بزرگوں نے دعا کا اختیار کیا۔اور دوسرے نمبر پر ان اعتراضات و شبہات کے ازالہ کے لئے رسائل و اخبارات (الحکم - بدر - شعید الاذہان - ریویو آف ریلیجنز وغیرہ) میں اداریے اور مضامین لکھے اور بعض کتابیں اور رسالے بھی شائع کئے گئے۔مثلاً حضرت خلیفتہ المسیح اول نے ایک پمفلٹ ” وفات المسیح" کے عنوان سے اور مولوی محمد احسن صاحب نے ایک مضمون بعنوان حیات الانبیاء فی ممات الانبیاء " لکھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ایک کتاب " آئینہ صداقت " تالیف کی۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ نے خدا کا مسیح اور اس کا وصال" نامی رسالہ لکھا۔مولوی محمد علی صاحب نے ریویو آف ریلیجز میں اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے الحکم میں مقالے لکھے۔ان کے علاوہ بعض دوسرے بزرگوں مثلاً حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب وغیرہ نے اخبارات سلسلہ میں قیمتی مضامین لکھے۔مگر اس مرکب حملہ میں سلسلہ کی طرف سے کامیاب ترین مدافعت کا فریضہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سرانجام دیا۔چنانچہ آپ اپنے اس "