تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 207 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز عہد کے مطابق جو آپ نے اپنے مقدس باپ کی نعش کے سامنے کیا تھا۔سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف ہو کر میدان عمل میں آگئے۔اور آپ نے "محمود اور محمدی مسیح کے دشمنوں کا مقابلہ " کے عنوان سے شہید میں ایک مفصل و مبسوط مضمون شائع کیا۔جس میں مشہور مخالفین احمدیت کے اعتراضات کی دھجیاں بکھیر دیں اور حضور علیہ السلام کے متعدد الہامات و کشوف سے صاف طور پر واضح کر دکھایا کہ حضور کا وصال بھی آپ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اور آپ کی سچائی کا ثبوت ہے۔یہ جواب ایسا مدلل اور مسکت اور موثر تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے اس پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا۔کہ ”مولوی صاحب مسیح موعود کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراض کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی۔مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے" الحکم میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے حکم ہی سے یہ بلند پایہ مضمون ۱۰/ جولائی ۱۹۰۸ء کو دیدہ زیب کتابت و طباعت سے ایک مستقل کتاب کی شکل میں بھی شائع ہوا جس کا نام حضرت خلیفہ اول نے الہام الہی سے ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے۔" رکھا۔یہ کتاب جو سید نا کی 2 سب سے پہلی تصنیف ہے قریبا ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل تھی۔اور اس کے آخر میں رسالہ الوصیت بھی لگا دیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے یہ کتاب بذریعہ رجسٹری مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھیجی کیونکہ اس نے کہا تھا کہ مرزا صاحب کی اولاد ا چھی نہیں۔آپ نے کتاب بھجواتے ہوئے لکھوایا کہ " حضرت مرزا صاحب کی اولاد میں سے ایک نے تو یہ کتاب لکھی ہے۔جو میں تمہاری طرف بھیجتا ہوں تمہاری اولاد میں سے کسی نے کوئی کتاب لکھی ہو۔تو مجھے بھیج دو۔" کتاب کی اشاعت نے جہاں اپنوں کے حوصلے بلند کر دئے۔وہاں دشمنوں کی خوشیاں خاک میں اک میں F مل گئیں اور انہیں احمدیت میں قدرت ثانیہ کی ایک نئی قوت ابھرتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔خلافت اولیٰ کے عہد میں صدر انجمن صدر انجمن احمدیہ کا سب سے پہلا اجلاس قادیان میں ۱۳۰ مئی ۱۹۰۸ء کو بوقت آٹھ بجے احمدیہ کا سب سے پہلا اجلاس صبح حضرت سیدنا محمود احمد ایدہ اللہ تعالٰی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل اہم فیصلے ہوئے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ہاسپٹل اسٹنٹ دہلی کی خدمت میں لکھا جائے کہ ”وہ بالفعل ایک سال کی رخصت لے کر قادیان آئیں۔موجودہ حالات کے ماتحت سخت ضرورت ہے کہ بعض خدام حضرت مسیح موعود و مهدی معهود قادیان میں آکر یکجہتی سے کام کریں۔"