تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 213
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 205 احمد بیت میں نظام خلافت کا آغاز آپ کا وصال مبارک ہوا۔نام نہاد انجمن حامی اسلام" کے علماء نے جس کے کرتا دھر تا ما محمد بخش صاحب (جعفر زٹلی ) تھے۔حضور کی لاہور میں آمد پر ہی آپکی قیام گاہ کے سامنے ایک اکھاڑہ قائم کر رکھا تھا۔سب و شتم میں اس نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔رسالہ المجد ولا ہو ر (جون ۱۹۰۸ء) لکھتا ہے۔" مرزا قادیانی کی فرودگاہ سے چند قدم کے فاصلہ پر اس کے عقائد باطلہ اور دعاوی کاذبہ کی تردید میں متواتر جلسے ہونے شروع ہو گئے۔علمائے اسلام کی ایک جماعت تیار کی گئی ( آگے اس زمانہ کے مشہور علماء کے نام درج ہیں صوفی سید پیر جماعت علی صاحب مجددی نقشبندی محدث علی پوری ادام اللہ فیوضم مدعو کئے گئے تھے اور یہ جتنی کوششیں تھیں صرف عالی جناب ملا محمد بخش صاحب سیکرٹری انجمن حامی اسلام لاہور کی ان تھک اور جان تو ز خدمات اسلام کا نتیجہ تھیں یہ شاندار جلسے روز افزوں ترقی کرتے گئے اور آخر وہ دن آپہنچا کہ انجمن حامی اسلام لاہور کی سچی اسلامی خدمات کا اسے شمرہ ملتا یعنی وہ دن آپہنچا کہ مرزا قادیانی بمعہ اپنے دعاوی اور الہامات اور پیشنگوئیوں کے تباہ اور ہلاک ہو جائے۔۔۔اسی شام کو مقام سابق پر ایک عظیم الشان جلسہ نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوا اور ہر ایک عالم نے کادیانی دعاوی کو بمعہ مرزا کے خاک میں ملا دیا اور خصوصاً حضرت شاہ صاحب قبلہ عالم علی پوری مدظلہ تعالیٰ نے اپنی تقریر دلپذیر کے اخیر میں جناب ملا محمد بخش صاحب سیکرٹری انجمن حامی اسلام لاہور کی اسلامی خدمات کا نہایت عمدہ طور پر اعتراف کیا۔اور بسلسلہ حسن خدمات یکصد روپیہ انعام بدست خاص بمعه خلعت فاخرہ اور ایک تمغہ نقری عطا فرمایا۔اور حضرات علماء کرام نے مل کر سیکرٹری صاحب موصوف کو "خادم الاسلام" کا خطاب مرحمت فرمایا اور جناب سیکرٹری صاحب موصوف کو کثرت کے ساتھ پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔اور ان کو مرزا کاویانی کے مقابلہ میں فتح و نصرت کی مبارکبادیں دی گئیں 10 اور جلسہ برخاست ہوا۔اس جلسہ اور مرزائے قادیانی کے مرنے کے بعد بھی اہل اسلام کے اعتقادات پختہ کرنے کے لئے کئی دن تک جلسے ہوتے رہے ان جلسوں میں حضرت شاہ موصوف نے ۱۵-۲۰ کے قریب علمائے دین و دیگر حضرات کو صلہ حسن خدمات تمغہ جات نقرئی عطا فرمائے " مولوی شاء اللہ صاحب کی مخالفت۔مولوی ثناء اللہ صاحب جو پہلے حضرت اقدس کے مقابلہ میں مباہلہ سے صاف انکار کر چکے تھے۔اب پھر خم ٹھونک کر سامنے آگئے۔اور یہ کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب کی موت میرے مقابل اشتہار آخری فیصلہ کے نتیجہ میں واقع ہوئی۔” مرقع قادیانی" اور اہلحدیث وغیرہ میں اس پر بہت کچھ لکھا۔علاوہ ازیں اخبار وکیل ۱۳/ جون ۱۹۰۸ء میں لکھا۔”ہم " سے کوئی پوچھے تو ہم خدا لگتی کہنے کو تیار ہیں کہ مسلمانوں سے ہو سکے تو مرزا کی کل کتابیں سمندر میں -