تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 201
تاریخ احمدیت جلد ۳ اسیران سلطانی ہیں۔193 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز مولوی نور الدین صاحب۔کیا وجہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہی سلوک نہ کیا جاوے جو اسیران سلطانی کے ساتھ ہو اکرتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ تم کو ان وطنوں سے نکال کر دو سرے وطنوں میں آباد نہ کیا جاوے۔" میں۔( بڑے جوش اور لا پرواہی کے ساتھ ) آپ کی جو مرضی ہے کریں جب ہم اسیر سلطانی ہیں تو ہمارا چارہ ہی کیا ہے۔ہم خوب سمجھتے ہیں کہ ہمارا اب دور بدل گیا ہے اب ہم فیدی ہیں اگر ہم کچھ اور چاہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں جو آپ کی خوشی ہو کر و۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔میرے جسم پر سخت رعشہ اور سنسناہٹ تھی۔اور ایک مدت تک میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا۔یہ تسجد کا وقت تھا۔میں اٹھا اور سب سے اول اسی واقعہ کو قلمبند کیا اور صبح تک استغفار میں مصروف رہا۔بعد از صبح حضرت مرزا صاحب مغفور باہر آئے تو سب سے اول جو موقعہ مجھے تنہائی میں آپ سے ملا۔میں نے وہ کاغذ پیش کیا۔دو دن کے بعد یہ رویا بالکل بدیہی واقعہ ہو جانے والا تھا۔لیکن مصلحت ربی نے آپ کی طبیعت کو اس طرف نہ آنے دیا۔آپ نے صرف اس قدر فرمایا۔کہ خواب میں اسیر سلطانی ہو نا نہایت ہی مبارک نہایت ہی مبارک ہے۔حضرت صاحب کے بعد میں حضرت حکیم صاحب قبلہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ کاغذ دکھایا۔وہ حسرت آج تک میرے پیش نظر ہے۔جو اس کاغذ کو دیکھ کر مولوی صاحب کے چہرے پر نمودار ہوئی۔آپ نے کئی منٹوں تک گردن نیچی رکھی۔اور پھر بعد میں اس کاغذ کو اپنی جیب میں ڈال کر فرمایا۔کہ میں اس کی تعبیر بعد غور بتلاؤں گا۔۴۸ گھنٹہ اس واقعہ پر گزرے کہ بادشاہ وقت جہان سے رخصت ہو گیا اور نئے کار کے آثار شروع ہو گئے اس خواب سے اطلاع اسی دن مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کو دی گئی تھی۔اور وہ خدا واسطے اس امر کی شہادت دے سکتے ہیں۔الغرض جب ہم اس اچانک موت کے ضروری انتظام سے فارغ ہو کر ریل میں بغرض قادیان بیٹھے۔تو میں نے حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب سے جب کہ ہر دو ڈاکٹر صاحب بھی ہمراہ تھے پوچھا۔کہ جتلاؤ اب خلیفہ کون ہو گا۔تو شیخ صاحب نے فی الفور بجواب کہا کہ وہی جس کی تمہیں دو دن پہلے اطلاع ہو چکی ہے۔شیخ صاحب کا اس رویا کی طرف اشارہ تھا۔جب ہم قادیان پہنچے۔اور حضرت فاضل امروہی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی استرضا کے بعد گول کمرہ قادیان میں جمع ہوئے تو میں نے حضرت قبلہ کو وہاں آنے کی تکلیف دی۔اس وقت بھی میں نے یہ نہیں کہا کہ اب آپ خلافت کو قبول کریں۔بلکہ میں نے یہ عرض کیا کہ حضور کو جو کاغذ پر سوں لاہور میں میں نے دیا