تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 202 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 202

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 194 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز تھا۔اور جس میں میرا ر و یا تھا وہ کیا حضور کو یاد ہے۔مولوی صاحب۔ہاں میاں۔وہ کاغذ اب بھی میری جیب میں ہے۔۔میں۔تو پھر اب وہ وقت آگیا۔اس کے بعد حضرت نے دو نفل ادا کئے اور مجھے حکم دیا کہ حضرت مائی صاحبہ اور میر صاحب سے استرضا کروں۔جو تقریر اول بطور خلیفتہ المسیح آپ نے باغ میں فرمائی اس میں بھی آپ نے مجھے مخاطب کر کے ذیل کے الفاظ فرمائے۔اب سستی اور غفلت کے وطنوں کو چھوڑ دو۔اور چستی اور کار کردگی کے وطنوں میں آباد ہو جاؤ۔یہ الفاظ بھی خواب کی طرف تلمیح کرتے تھے۔لیکن نہ مجھے اور نہ خود حکیم صاحب قبلہ کو اس وقت علم تھا کہ یہ الفاظ اس طرح استعارہ نہیں بلکہ لفظی معنوں میں پورے ہونے والے ہیں آج میں ہوں اور یورپ کیا عجیب بات ہے کہ کل سے میری طبیعت یہاں بے چین ہے اور بار بار گھر جانے کو دل چاہتا ہے۔گھر سے میری مراد لندن ہے سبحان اللہ سبحان اللہ اکیوں تم کو ان وطنوں سے نکال کر دوسرے وطنوں میں آباد نہ کیا جائے۔رویا کیا برحق ثابت ہوا۔خان نواب محمد علی خاں صاحب بھی اس رویا سے واقف ہیں۔ان واقعات کی شہادت خود حضرت قبلہ حکیم صاحب سے لی جاوے۔آیا یہ بچے امور ہیں یا نہیں۔ابھی دو ماہ ہوئے جب میں نے ان کو کہا کہ آپ کسی کو میری مدد کے لئے لندن بھیج دیں تو میں نے پھر اس خواب کی طرف اشارہ کر کے لکھا کہ خواب تو چاہتا ہے کہ میرے ہمراہ چار پانچ اور بھی وطنوں کو چھوڑ کر غریب الوطنی اختیار کریں اور آپ کے حکم سے۔آپ کیوں حکم صادر نہیں فرماتے۔میرے ساتھ تو چار پانچ اور بھی تھے جب آپ نے مجھے جلا وطن کیا۔بہر حال ہمارے دو تین احباب جو قاضی یار محمد صاحب کے معاملہ میں کچھ متامل سے ہیں چونکہ وہ اس احمدی سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے لئے خواب اور مکاشفات حجت ہوتے ہیں۔وہ ان امور بالا پر غور کریں یہ رویا تو کچھ ایسا قادیان میں مشہور تھا کہ ۱۹۰۹ ء میں بعض واقعات کے پیدا ہونے پر جیسے طنزا امیر سلطانی کہہ کر پکارا جاتا تھا اور ایک میرے قابل ادب دوست کے لئے تو یہ میرا اسیر سلطانی کا خطاب بہت سارے پریشان کن حالات کا موجب ہو جایا کرتا تھا۔"