تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 200 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 200

تاریخ احمد بہت جلد ۳ 192 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز کمال الدین صاحب کا ایک حیرت خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح انگیز بیان قیام خلافت اولیٰ کی نسبت اول کی بیعت کے لئے اس درجہ سعی و جد و جہد کام لیا؟ یہ ایک نہایت ایمان افروز واقعہ ہے جس کی تفصیل خواجہ کمال الدین صاحب کے قلم سے لکھتا ہوں - فرماتے ہیں:۔احمد کی جماعت میں بہت تھوڑوں کو اس بات کا علم ہے کہ میں نے ہی سب سے اول حضرت قبلہ کو اپنی طرف سے اور اپنے خاص احباب کی طرف سے خلافت کا بار گراں اٹھانے کے لئے عرض کیا۔اس کی بناء کوئی مصلحت وقت نہ تھی بلکہ اشارہ ربی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت مسیح موعود ۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔میں نے شب در میان ۲۳۔۲۴/ مئی ۱۹۰۸ ء ایک عجیب رویا دیکھا۔میں ان واقعات کا ذکر بھی نہ کرتا لیکن چونکہ بعد کے واقعات اور موجودہ واقعات نے اس رویا کی صداقت پر مہر لگادی ہے اس لئے میرے نزدیک ہر ایک سلیم الفطرت احمدی کے لئے یہ ایک قطعی شہادت ہے۔میں نے دیکھا کہ میں اور میرے ہمراہ شاید اور نویا دس یا گیارہ احباب ہیں جن میں سے ایک مولوی محمد علی صاحب ہیں ہم سب کسی شاہی خاندان میں سے ہیں لیکن جس خاندان کے ہم ممبر ہیں ان کا سرتاج تخت سے الگ ہو چکا ہے۔اور نئی سلطنت قائم ہو گئی ہے، اور پہلا دور بدل گیا ہے۔اور ہم یہ نو دس آدمی امیران سلطانی ٹھہرائے گئے ہیں۔ہم سخت تشویش میں ہیں کہ اتنے میں ہمیں اطلاع ہوئی کہ نئی سلطنت کا سرتاج ہم کو طلب کرتا ہے اور ہمیں ہماری قسمت کا فیصلہ سناتا ہے۔کیا شان ایزدی ہے کہ ہم جو نو دس آدمی ہیں ان کی بھی دو جماعتیں بنائی گئی ہیں حکم ہوا کہ باری باری جماعت میں نئے حاکم کے سامنے ہم پیش ہوں۔چنانچہ پہلی جماعت جو نئے سلطان کے سامنے پیش ہوئی وہ بسر کردگی مولوی محمد علی صاحب گئی ہم کمرہ سلطان سے باہر تھے لیکن مجھے یہ سمجھ آئی کہ نئے فرمانروا نے جو کچھ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو کہا انہوں نے خاموشی سے سن کر سر تسلیم خم کیا اور خاموش ہی باہر آگئے اس کے بعد مجھے حکم ہوا۔میرے ہمراہ بھی چار پانچ احباب باقی تھے۔اور وہ میری سرکردگی میں پیش ہوئے جب میں کمرہ سلطان کے اندر داخل ہوا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ نیا حاکم خود مولوی نور الدین صاحب ہیں۔آپ نے نہایت متانت اور تمکنت کے ساتھ مجھے اور میرے ہمراہیوں کو دیکھا اور پھر حسب ذیل گفتگو شروع ہوئی۔میرا اند از جواب کسی قدر تیز تھا۔مولوی نور الدین صاحب ! تم جانتے ہو کہ تم کون ہو۔اور تمہاری حیثیت اس وقت کیا ہے ؟ میں۔میں خوب جانتا ہوں کہ جس خاندان شاہی کے ہم رکن تھے وہ دور بدل گیا ہے اور ہم اس وقت