تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 199 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 199

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 191 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز اس درد بھری تقریر پر سب نے بالا تفاق درد مند دل کے ساتھ عرض کیا۔کہ ہم آپ کے بھی احکام مانیں گے آپ ہمارے امیر بنیں اور ہمارے مسیح کے جانشین ہوں۔چنانچہ اسی جگہ بارہ سو کے قریب احمدیوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور یوں قدرت ثانیہ کا ظہور ہوا۔مردوں کی بیعت کے بعد مستورات نے بھی بیعت خلافت کی اور سب سے اول بیعت کننده حضرت سیدۃ النساء ام المومنین رضی اللہ عنہا تھیں۔کٹر عطر دین صاحب درویش کا بیان ہے کہ میں تدفین کے بعد چودھری فتح محمد صاحب سیال اور شیخ محمد تیمور کے ہمراہ شہر کو واپس آرہا تھا کہ بڑے باغ کے کنویں کے پاس کسی نے پیچھے سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اول ہیں آپ نے فرمایا میاں عطر دین ! کیا محمد علی نے میری بیعت کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ انہوں نے بیعت کی ہے چنانچہ میں نے اسی وقت اپنے ساتھیوں کو بتا دیا کہ حضور نے مولوی محمد علی صاحب کے متعلق یہ دریافت فرمایا ہے۔صدرا الجمن احمدیہ کی طرف سے بیرونی جماعتوں کو اطلاع غرض کہ پوری جماعت اس وقت حضرت خلیفہ اول کی خلافت پر بالاتفاق جمع ہو گئی اور خواجہ کمال الدین صاحب نے صد را انجمن احمدیہ کی طرف سے اخبار "الحکم " اور "بدر" میں بیرونی جماعتوں کو اطلاع دی کہ " آپ ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشوره معتمدین صدر انجمن احمدیه موجود قادیان و اقربا حضرت مسیح موعود با جازت حضرت ام المومنین کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم الامت نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے۔مولانا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب۔صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب جناب نواب محمد علی خان صاحب۔شیخ رحمت اللہ صاحب۔مولوی محمد علی صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب و خلیفہ رشید الدین و خاکسار (خواجه کمال الدین یه خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح و المہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں۔اس اعلان میں خواجہ صاحب نے بیعت کے الفاظ بھی درج کئے تھے۔