تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 198
190 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارہ فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا سو اس کے بعد میری ساری عزت اور میرا سارا خیال ان ہی سے وابستہ ہو گیا۔اور میں نے کبھی وطن کا خیال۔۔۔۔۔تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک شخص دوسرے کے لئے اپنی تمام حریت اور بلند پر وازیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔اس لئے اللہ نے اپنے بندے کا نام عبد رکھا ہے۔اس عبودیت کا بوجھ اپنی ذات کے لئے مشکل سے اٹھایا جاتا ہے۔کوئی دوسرے کے لئے کیا اور کیونکر اٹھائے۔طبائع کے اختلاف پر نظر کر کے یک رنگ ہونے کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت ہے۔۔۔آنحضرت ا کی وفات کے بعد جناب ابو بکر کے زمانہ میں عرب میں ایسی بلا پھیلی تھی کہ سوا مکہ اور مدینہ اور جوانہ کے سخت شور و شر اٹھا۔مکہ والے بھی فرنٹ ہونے لگے۔مگر وہ بڑی پاک روح تھی۔جس نے انہیں کہا۔کہ اسلام لانے میں تم سب سے پیچھے ہو۔مرتد ہونے میں کیوں پہلے بنتے ہو۔عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔میرے باپ کے اوپر جو پہاڑ گرا ہے وہ کسی اور پر گر تا تو چور ہو جاتا۔پھر بیس ہزار کی جماعت مدینہ میں موجود تھی۔اور چونکہ آنحضرت ا حکم دے چکے تھے کہ ایک لشکر روانہ کرتا ہے بس اس کو بھیج دیا ادھر اپنی قوم کا یہ حال تھا مگر آخر خدا نے اپنی قدرت کا ہاتھ و کھلایا - و ليمكنن لهم دينهم الذی ارتضى لهم کا زمانہ آگیا اس وقت بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے۔نبی کریم ا کے بعد ابو بکر کے زمانے میں صحابہ کرام کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنی پڑیں۔سب سے پہلا اہم کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے۔اب موجودہ صورت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عمل در آمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔پھر حضرت ابو بکڑ نے زکوۃ کا انتظام کیا۔یہ بڑا عظیم الشان کام ہے۔انتظام زکوۃ کے لئے اعلیٰ درجے کی فرمانبرداری کی ضرورت ہے پھر کنبہ کی پرورش ہے۔غرض کئی ایسے کام ہیں۔آخر میں آپ نے ارشاد فرمایا :۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعا د کرہا اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتا فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات۔دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی۔اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے۔یہ اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا۔ولتكن منكم امة يدعون الى الخير - یاد رکھو کہ ساری خوبیاں وحدث میں ہیں جس کا کوئی رئیں نہیں وہ مرچکی ہے۔