تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 182 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 182

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 178 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک قدم دروازے سے باہر ہوا۔اس وقت سید محمد احسن صاحب نے رقت بھری آواز میں حضرت مولوی صاحب سے کہا۔انت صدیقی حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔یہاں اس سوال کو رہنے دیں۔قادیان جاکر فیصلہ ہو گا۔" مولوی سید محمد احسن صاحب کو یہ جواب دے کر آپ تشریف لائے تو کچھ وقت بعد جماعت کے دوسرے زخم خوردہ خدام نے بیعت کی درخواست کی مگر آپ نے اپنے پیارے آقا کی مفارقت کا بے پناہ غم اپنے سینہ میں چھپائے ہوئے بڑے صبر و تحمل سے اپنا پہلا جواب دہرا دیا۔اور فرمایا اس کا فیصلہ یہاں نہیں قادیان جاکر ہو گا۔چنانچہ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کا بیان ہے کہ " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت لوگوں کے ہوش و حواس پر اثر تھا اور جماعت احمدیہ کو بے انتہا صدمہ تھا لیکن جو شخص اس وقت صبر و وقار سے کام لے کر جماعت کی تسکین کا باعث تھا۔وہ حضرت مولانا حافظ نور الدین اللہ تھے۔حضرت مولوی محمد سعید صاحب حیدر آبادی ان دنوں لاہور میں موجود تھے انہوں نے نیز خاکسار اور مولوی حافظ غلام محمد صاحب نے حضرت موصوف کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ہم سے بیعت لیں۔مگر آپ نے فرمایا جاؤ اپنا کام بدستور کرو۔اور بیعت کا فیصلہ قادیان جاکر ہو گا چنانچہ قادیان اگر بیعت ہوئی اور حضرت مولانا بالاتفاق کل جماعت معہ اہل بیت کے اجماع سے خلیفہ المسیح اول منتخب ہوئے۔" 112