تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 181 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 181

تاریخ احمد بیت، جلد ۳ 177 آغا ز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک بلڈ نگس کے میدان میں آپ نے سورۃ فاتحہ سے قرآن شریف کا درس شروع کر دیا تھا۔جس میں بہت رونق ہوا کرتی تھی۔پنج وقتہ نمازوں میں جو عزیز منزل میں ہوتی تھیں آپ ہی پیش امام ہوتے تھے۔آپ نے طلبائے دینیات کو یہاں بلالیا تھا اور ان کی تعلیم باقاعدگی سے جاری رکھتے تھے۔چنانچہ مولوی محمد جی صاحب فاضل کا بیان ہے کہ ۱۹۰۸ء میں لاہور میں آپ کے ہمراہ قریباً گیارہ طلبہ تھے جناب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے مقام پر جماعت ہوا کرتی تھی ظہر کی نماز کے وقت میں اور عبد الرحمان کا نمانی وہاں گئے فرمایا کیا کھانا کھا لیا ہے۔میں نے عرض کی کھالیا ہے۔پوچھا کہاں سے میں نے کہا انار کلی کی ایک دکان ہے۔آپ نے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کو بلا کر نقدی دی اور فرمایا کہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دینا مجھ سے روپے لیتے رہنا کھانے کا انتظام کر دیں۔محمد صادق نام ایک غیر احمدی طالب علم دیو بند سے آیا ہوا تھا۔ایک دکاندار کے پاس اس کو لے گئے اور روٹی کا اچھا انتظام کرا دیا۔لاہور میں ہندو و مسلمان اپنے اپنے مکانوں کو بابرکت بنانے کے لئے مولوی صاحب کو لے جایا کرتے تھے اور نقدی کی صورت میں نذریں پیش کرتے تھے۔الله حضرت مسیح حضرت مسیح موعود کے آخری لمحات میں آپ کا صبر و استقلال موعود علیه السلام کی مقدس اور خدا نما زندگی کے آخری لمحات آپ کے لئے حد درجہ صبر آزما تھے اور آئندہ آنے والے خطرت و مشکلات کے تصور سے آپ کا دل لرزا در روح کانپ رہی تھی۔مرض الموت کے آغاز میں حضور نے آپ کو بلوانے کا ارشاد فرمایا۔آپ دوسرے مخلص احباب کے ساتھ حاضر ہو گئے۔حضور نے فرمایا کہ " مجھے سخت دورہ اسمال کا ہو گیا ہے آپ کوئی تجویز کریں پھر ساتھ ہی فرمایا کہ حقیقت میں تو دوا آسمان پر ہے۔آپ دعا بھی کریں اور دوا بھی " چنانچہ آپ نے بعض دوسرے احمدی ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے علاج شروع کیا۔مگر خدائی تقدیر میں اب اسلام کے اس فتح نصیب جرنیل کی واپسی کا وقت آن پہنچا تھا۔کوئی دوا کار گر نہ ہوئی اور چودھویں صدی کا یہ روحانی چاند اس دنیا سے غروب ہو کر اگلے جہان میں طلوع ہو گیا۔انا لله وانا اليه راجعون حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ " جس وقت لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب اس کمرہ میں موجود نہیں تھے۔جس میں آپ نے وفات پائی۔جب حضرت مولوی صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ آئے اور حضرت صاحب کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر جلدی اس کمرے سے باہر تشریف لے گئے۔جب حضرت مولوی صاحب کا