تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 183
تاریخ احمد بہت جلد ۳ 179 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک ا -+ الحکم ۱۰ / فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۳ کالم ۲۔اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۹۱ - ۹۲۔الحکم ۲۹/ اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحه ۴ کالم حواشی باب۴ تفسیر کبیر جلد سوم صفحه ۱۴ دیباچه ترجمه قرآن مجید آپ نے ۱۹۰۴ء۔۱۹۰۳ء میں چھ ماہ کے اندر ختم کیا اور ۱۹۰۹۶۹ء کے دوران بخاری شریف پڑھی پھر عربی کے کچھ رسائل پڑھے۔حیات نور الدین صفحه ۱۵۴-۱۵۶ - ۳۱۔اصحاب میں ان کا نام ۱۸۹ نمبر پر درج ہے جماعت میں جب امارت کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ بھیرہ کے سب سے پہلے مقرر ہوئے آپ نے موضع کوٹ احمدی والا ( نزد میانی) میں ۲۳ فروری ۱۹۲۸ء کو بعد نماز فجر انتقال کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے ان کا جنازہ غائب پڑھنے سے قبل فرمایا " محمد ونم صاحب مرحوم حضرت خلیفہ اول کے شاگردوں میں سے تھے نہایت خاموش طبیعت اور مخلص احمد کی تھے اپنے علاقہ میں بہت ذی عزت اور صاحب وجاہت تھے بھیرہ اور اس کے علاقہ کی جماعت کے امیر تھے۔انہوں نے گذشتہ چودہ پندرہ سالوں میں احمدیت میں اچھی ترقی کرتی تھی۔" مرحوم کے اکلوتے فرزند مخدوم محمد ایوب صاحب بی۔اے (امیر جماعت احمدیہ میانی) صحیح معنوں میں آپ کے جانشین اور یاد گار ہیں اور یہ خط بھی انہیں سے ملا ہے جزاہ اللہ (حالات کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ۲۸ / جون ۱۹۳۷ء صفحہ ۹۷) -4 الحکم ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۵۔کالم ۳۔حیات احمد چهارم صفحه ۳۷۱ ۹ کلام امیر صفحہ ۱۹۔۲۰۔کرامات الصادقین صفحه الفح کرامات الصادقین صفحہ الف - ج - تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۶۸-۷۰ حیات نور الدین صفحه ۱۵۶- ذکر حبیب از حضرت مفتی صاحب صفحه ۲۲ ۲۳ ۱۴ مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۶۶ ۱۶۷۔۱۵- حیات نور الدین صفحه ۱۵۶ حیات احمد جلد چہارم صفی ۱۱۹۔۱۳۰ حاشیہ۔۱۷ احکم ۲۷ / مارچ ۱۸۹۸ء صفحہ ۸-۱۱۔(ملخص) ۱۸۹۵-۱ء میں آپ نے ام الالسنہ کی تحقیق میں بھی گرانقدر حصہ لیا۔(تاریخ احمدیت حصہ دوم طبع اول صفحه ۳۵۵۔طبع دوم ۳۳۸) اسی طرح ریواڑی کے رسالہ معلم الصحت ( اپریل ۱۸۹۵ء صفحہ ۵۳) نے آپ کا ایک طبی مراسلہ شکریہ کے ساتھ شائع کیا۔سفر ڈیرہ بابا نانک میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ( تاریخ احمدیت جلد دوم طبع اول صفحه ۳۶۸ طبع دوم صفحه ۳۵۲) 19 یہ واقعہ یقینا مارچ اپریل ۱۸۹۶ء کے بعد کا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب نے آپ سے بوقت ملاقات امیر کابل کے نام جس مکتوب کا تذکرہ فرمایا ہے وہ مارچ اپریل ۱۸۹۶ء میں لکھا گیا ہے (مفصل ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت حصہ دوم صفحہ ۳۶۷) حضرت مفتی صاحب اس سفر کا ذکر ان الفاظ میں فرماتے ہیں "ریاست بہاولپور کے نواب صاحب نے ایک دفعہ آپ کو اپنے علاج کے واسطے بلوایا اور حضرت مسیح موعود سے اس غرض کے واسطے نواب صاحب کے آدمیوں نے اجازت حاصل کی کچھ