تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 157
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 153 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک مثالیں دے دے کر نو ایسے اہم امور کی نشان دہی فرمائی جو زمان حاضر میں ایک مترجم قرآن کے لئے نہایت درجہ ضروری ہیں۔چنانچہ آپ نے بتایا کہ اول تراجم موجودہ نے قرآن مجید کے مقدس اور معصوم الفاظ کو شائستگی سے گرے ہوئے مکروہ محاورات میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔جس سے مترجم کو بچنا ضروری ہے۔دوم قصص قرآنی کے نام پر مفسرین نے بہت سی بنی اسرائیلی روایات اور دوسری خرافات جمع کر دی ہیں اور خصوصاً انبیاء کو تو بڑے بڑے اتہامات کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے مترجم کا فرض ہے کہ اس سے اجتناب کرے۔سوم متشابہ اور محکم آیات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔چہارم۔مقطعات قرآنی کے معانی پر خاص طور پر غور کرنا چاہئے۔پنجم۔مسئلہ نخ پر غور ضروری ہے۔قرآن مجید میں ہر گز کوئی آیت منسوخ نہیں ہے کیونکہ اگر آیات منسوخہ قرآن میں موجود ہو تیں تو کم از کم کچھ ایسا جناب باری سے یا جناب صادق مصدوق حبیبی و خلیلی سیدنا و مولانا رسولنا و نبینا اصفی الاصفیا الله الله و ازواجہ و ذریاتہ و اہل بیتہ سے یا حضرات خلفائے راشدین سے یا ابو بکر و عمر سے جو راس رئیس علماء وقت ہیں اس سے کچھ ثابت ہو تا۔یہ امریخ کا دعویٰ علماء نے اپنے خیال سے کیا ہے جب دو آیات میں تطبیق نہیں آئی تو دعوی کر دیا کہ ایک آیت منسوخ ہے۔اس انکشاف نے مجھے قرآن کریم کی شاہراہ پر چلنے کے لئے بڑی راہ کھول دی ہے۔ششم۔چھٹا امر جس پر مترجم کو غور ضروری ہے وہ مسئلہ ہے ترتیب آیات کا۔میرے نزدیک ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن کریم الحمد شریف سے لے کر سورۃ ناس تک ایک ایسی ترتیب رکھتا ہے کہ اگر ایک آیت کہیں سے نکال ڈالیں تو قرآن قرآن نہیں رہتا۔ہفتم۔ساتواں امر جسے مترجم کو مد نظر رکھنا ضروری ہے حال کا فلسفہ ہے جس کی بناء گو اکثر مشاہدہ پر ہے۔مگر ہمارے ہندوستانی طالب علم اس میں تھیوری ، قیاس ، قیاس اور خیال اور امر محقق شدہ میں تمیز نہیں کر سکتے۔سید احمد خاں کی جماعت نے اس حقیقت کو نہ سمجھ کر یورپ کے فلسفہ اور سائنس سے دب کر صلح کرلی ہے۔اور الہام روحی و ملائکہ وہ آخرت و جنت و نار کے وجود سے گویا انکار کر دیا ہے۔ہشتم۔آٹھواں امر جس پر مترجم کو غور ضروری ہے اصول ترجمہ کا قائم کرتا ہے گذشتہ مفسرین نے خواہ اہل روایت ہوں یا اہل درایت۔صوفی ہوں یا علم اشتقاق سے تعلق رکھتے ہوں۔اپنی تفاسیر کے لئے اصول ترجمہ قائم نہیں کئے جس سے سخت گڑ بڑ واقع ہوئی ہے۔نہم۔مترجم کو ترجمہ کے وقت قولا ہی نہیں عملاً بھی مفسرین کے طبقات کو مد نظر رکھنا چاہئے اول