تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 154 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک IA 14 درجه تفسیر القرآن بالقرآن۔دوم حضرت حق سبحانہ کے اس نائب ا کا ہے جس کے حق میں فرمايا من يطع الله فقد اطاع الله - تیسرا مرتبہ خلفائے راشدین کا ہے۔سفر بہاولپور اور حضرت خواجہ غلام فرید ۱۸۹۶ء کے نصف اول کا واقعہ ہے کہ حضرت صاحب چاچڑاں شریف سے ملاقات مولوی صاحب حضرت اقدس علیہ السلام کی اجازت سے نواب صادق محمد صاحب رائع (متوفی ۱۸۹۹ء) نواب بہاولپور کے علاج کے لئے بہاولپور تشریف لے گئے۔نواب صاحب موصوف نے آپ کو بہاولپور میں رہنے اور ساتھ ہزار ایکڑ زمین دینے کی پیش کش کی مگر آپ نے بالکل انکار کیا۔اور فرمایا کہ اس قدر زمین سے کیا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آپ اس سے امیر کبیر ہو جائیں گے۔آپ نے جواب دیا کہ اب تو آپ ہمارے پاس چل کر آتے ہیں کیا پھر بھی آئیں گے۔انہوں نے کہا نہیں تب آپ نے ارشاد فرمایا۔" پھر فائدہ ہی کیا ہے؟" جب دربار بہاولپور میں ابتداء حضرت مولوی صاحب کے بلوانے کی تجویز ہوئی تو حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف (۱۸۴۶ء۔۱۹۰۱ء) سے بھی استصواب کیا گیا تھا اس پر بعض لوگ جو ریاست میں اس وقت ممتاز عہدوں پر تھے اور اپنے آپ کو دیندار خیال کرتے تھے انہوں نے اعتراض کیا کہ حضرت صاحب ( مراد خواجہ صاحب بعض اوقات تو دین کا کچھ باقی نہیں رہنے دیتے اب " مرزائی" کے بلائے جانے کا مشورہ دے دیا ہے۔جب یہ بات ایک ذریعہ سے خواجہ صاحب کے پاس پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ مرزا صاحب کا کلام شیخ اکبر کی طرح عمیق ہے یہ لوگ اس کو سمجھتے نہیں یونہی چلاتے جاتے ہیں۔بہر حال نواب صاحب بہاولپور نے حضرت خواجہ صاحب کے مشورہ کے مطابق آپ کو بلوا بھیجا۔نواب صاحب سے ملنے کے علاوہ آپ کی حضرت خواجہ صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جس کا ذکر خود حضرت خواجہ صاحب کے ملفوظات سے ملتا ہے۔سفر مالیر کوٹلے حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خانصاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں حضرت مولوی نور الدین صاحب سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں چنانچہ حضرت اقدس کے ارشاد پر حضرت مولوی صاحب مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے اور غالبا اپریل سے اکتوبر ۱۸۹۶ء تک وہاں قیام پذیر رہے۔آپ کے ہمراہ آپ کے اہل بیت بھی تھے اور کئی ایک شاگرد بھی جمع ہو گئے تھے۔مثلاً بھائی عبدالرحیم صاحب۔بھائی عبد الرحمان صاحب مفتی فضل الرحمان صاحب۔اس پورے قافلہ کی مہمان نوازی حضرت نواب محمد علی خان صاحب فرماتے تھے اور ان کی چھوٹی