تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 133 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 133

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 129 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ان کی خدمات اسلامی کو دیکھا اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے حالات پر غور کیا تو قرآن مجید نے میری رہنمائی فرمائی میں نے دیکھا کہ اس سے پہلے آنے والوں کا مقابلہ جس طرح پر کیا گیا وہی اب ہو رہا ہے۔گویا اس پرانی تاریخ کو دہرایا جا رہا ہے۔میں کلمہ شہادت پڑھ کر کہتا ہوں کہ مرزا حق پر ہے اور اس حق سے ٹکرانے والا باطل پاش پاش ہو جائے گا۔مومن حق کو قبول کرتا ہے۔میں نے حق سمجھ کر اسے قبول کیا ہے اور حضرت نبی کریم کے ارشاد کے موافق کہ مومن جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہ اپنے بھائی کے لئے پسند کرتا ہے۔آپ کو بھی اس حق کی دعوت دیتا ہوں وما علینا الا البلاغ السلام علیکم۔یہ کہکر میز پر سے اتر آئے اور جلسہ بر خاست ہو گیا۔" ازالہ اوہام " کی اشاعت میں اعانت حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ازالہ اوہام " کی اشاعت میں قابل قدر حصہ لیا۔| ۷۲ چنانچه خود حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک اشتہار میں خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا اور لکھا اس جگہ اخویم مکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب معالج ریاست جموں کی نئی امداد جو انہوں نے کئی نوٹ اس وقت بھیجے قابل اظہار ہے خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے۔مولوی سید محمد احسن صاحب کے لئے چندہ مولوی سید محمد احسن صاحب احمدیت کی وجہ سے محلہ چوبدار پورہ (بھوپال) میں نوکری سے علیحدہ ہو کر خانہ نشین تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے گزارہ کے لئے اپنے مخلصین سے چندہ کی اپیل فرمائی جس پر حضرت مولوی صاحب نے ملازمت سے علیحدگی کے باوجو د لبیک کمی اور اپنے ذمہ کچھ رقم بطور چندہ واجب کرلی۔مہمانان جلسہ کے لئے ایک مکان کی تعمیر ۱۸۹۱ء میں سالانہ جلسہ کی بنیاد پڑ چکی تھی اور اس جلسہ پر آنے والوں کا باقاعدہ ایک سلسلہ شروع ہو رہا تھا لہذا آپ نے مہمانان جلسہ کے لئے سات سو روپیہ کے صرف سے قادیان میں ایک مکان بنوایا جس کی تعمیر میں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی نے بھی تین چار سو روپیہ کی امداد کی !! یہ بات جب ایک غیر احمدی صاحب کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چینیاں والی مسجد (لاہور) کے امام مولوی رحیم بخش صاحب سے استفتاء کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ایسے جلسہ پر روز معین پر دور سے سفر کر کے جانے میں کیا حکم ہے اور ایسے جلسہ کے لئے اگر کوئی مکان بطور خانقاہ تعمیر کیا جائے تو ایسے مدد دینے والے کی نسبت کیا فتویٰ ہے؟ اس دلچسپ استفتاء کے جواب میں چینیاں والی مسجد کے مکفر مولوی صاحب نے ایک طول طویل عبارت اور ایک غیر متعلق حدیث کا غلط سلط مطلب بیان کر کے یہ فتویٰ دیا