تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 132
ربیت - جلد مو 128 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک چھوڑ دینی چاہئے اور باقی وقت خدمت دین میں گزارنے کے لئے حضرت اقدس کی خدمت میں چلے جانا چاہئے۔مگر جب حضور کو آپ کے اس ارادہ کا پتہ چلا تو حضور نے دوبارہ اس کی ممانعت فرما دی۔اور لکھا ” آئمکرم کی نوکری ہمارے ہی کام آتی ہے۔ظاہر اس کا دنیا اور باطن سرا سر دین ہے اگر چہ بظا ہر صورت تفرقہ میں ہے مگر انشاء اللہ القدیر اس میں جمیعت کا ثواب ہے اور انشاء اللہ القدیر ذریعہ بہت سے برکات اور خوشنودی مولی کا ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ نے جو حکیم و علیم ہے بعض مصالح کے رو سے اس مقام میں آپ کو متعین فرمایا ہے پس قیام فی ما اقام الله ضروری ہے۔اس راہ سے آپ کو فیض رحمانی پہنچیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نومبر ۱۸۹۱ء میں سفر دہلی ولدھیانہ و پٹیالہ سے واپس سفر قادیان تشریف لائے تو حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور دوسرے مخلصین جماعت کو قادیان میں بلوایا۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب بھی اپنے آقا کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے جموں سے سیالکوٹ آئے۔رات کو ایک سرائے میں قیام کیا اور دوسرے دن قادیان روانہ ہو گئے۔جماعت احمدیہ کے پہلے سالانہ جلسہ میں شرکت ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ء کو بعد نماز ظہر / مسجد اقصیٰ قادیان میں سب سے پہلا سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔اس اولین جلسہ میں جن ۷۵ - اصحاب احمد نے شمولیت اختیار کی ان میں سب سے ممتاز حضرت مولوی نور الدین صاحب تھے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آنے والے ہر سالانہ جلسہ میں آپ اپنی امتیازی شان کے ساتھ موجود رہے۔۱ جنوری ۱۸۹۲ء کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اہل لاہور پر اتمام سفرلاہور اور لیکچر حجت کے لئے لاہور میں تشریف فرما تھے حضرت مولوی صاحب بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے۔اس تاریخ کو منشی میراں بخش صاحب کو ٹھی میں ایک عظیم الشان جلسہ بھی ہوا۔جس میں حضرت اقدس کی تقریر کے بعد آپ حضرت اقدس کے ارشاد پر اٹھے اور میز پر کھڑے ہو کر فرمایا۔" آپ نے مرزا صاحب کا دعوی اور اس کے دلائل آپ کی زبان سے سنے اور اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں اور بشارتوں کو بھی سنا جو ان مخالف حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں۔تمہارے اس شہر والے لوگ مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں۔علماء بھی مجھ سے ناواقف نہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کا فہم دیا ہے۔میں نے بہت غور مرزا صاحب کے دعاوی پر کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں۔