تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 130
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 126 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حاضر ہو کر عقائد کی اصلاح کروں اس سے زیادہ میں اس لئے نہیں لکھتا کہ میں آپ سے مایوس ہوں۔et اس مراسلہ کے بعد حضرت مولوی صاحب کو مہاراجہ جموں کے ہمراہ لاہور تشریف لانا پڑا۔مہاراجہ صاحب ابھی لاہور میں مقیم تھے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے لدھیانہ پہنچے اور ۱۳ / اپریل ۱۸۹۱ء کو لدھیانہ سے دوبارہ لاہور آکر کوچہ کو ٹھی داران میں منشی امیرالدین صاحب کے مکان پر فروکش ہوئے۔دراصل لاہور کے مخلصین جماعت کی خواہش تھی کہ حضرت مولوی صاحب سے مولوی عبد الرحمن صاحب لکھو کے کی گفتگو کرائیں گے اور آپ اسی لئے دوبارہ لاہور آئے تھے۔مگر معلوم ہوا کہ مولوی عبدالرحمن صاحب تو کہیں چلے گئے ہیں او رطے پایا کہ مسئلہ حیات و وفات مسیح پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے بالمشافہ تبادلہ خیالات کیا جائے چنا نشی امیرالدین صاحب کے مکان پر ہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بلوایا گیا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب جو اس موقعہ پر شامل بحث تھے بیان فرماتے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب بڑے همطراق سے اپنے جبہ کو سنبھالتے ہوئے آئے وہ ہمیشہ بڑا دامن در از جبہ پہنا کرتے تھے اور پیچھے سے اٹھا کر کے ایک ہاتھ میں سنبھالے رکھتے تھے۔۔۔حضرت حکیم الامت اپنی سادہ وضع سے آئے۔" اس موقع پر مولوی محمد حسین صاحب نے آپ سے گفتگو کی۔وہ انہوں نے اشاعتہ السنہ جلد ۱۳ صفحہ ۱۹ ۳۱) میں شائع کر دی تھی۔اس گفتگو کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب اصل مبحث سے کرید کر کے بے تعلق سوالات کرتے رہے چنانچہ جن حضرات نے یہ تقریب پیدا کی تھی انہوں نے بھی مولوی محمد حسین صاحب کے غیر متعلق سوالات اور طریق بیان کو نا پسند کیا اور انہیں توجہ دلائی کہ مسئلہ حیات و وفات مسیح پر گفتگو ہونی چاہئے مگر مولوی صاحب نے اصل موضوع کی طرف آنے کا نام ہی نہ لیا۔اور یہ پہلو بچانا چاہا صاف طرح دے گئے جس پر ان دوستوں نے کہا کہ ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا سمجھ لیا ہے اس غیر ضروری مکالمہ کو طول دینے کی ضرورت نہیں ہے چنانچہ حضرت مولوی صاحب صبح چار بجے سے چار بجے شام تک نزیل لاہور رہ کر رات کی گاڑی سے واپس لدھیانہ جہاں ۱۸ار اپریل تک قیام فرمایا پھر اپنے اہل بیت کو لیکر ۱۹ / اپریل ۱۸۹۱ء کو لاہور - اور لا ہوتا ہے جموں پہنچ گئے۔سم الله مر الله مارچ ۱۸۹۱ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جموں ڈاکٹر جگن ناتھ کا مطالبہ نشان میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے ایک ڈاکٹر جگن ناتھ کے سامنے جن سے آپ بے تکلفانہ تعلقات رکھتے تھے اور نہ ہی تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے ) صداقت اسلام