تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 129
تاریخ احمدیت - جلد ۳ 125 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک دعوی مسیحیت پر ایمان ۱۸۹۰ء کے آخر میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم سے "فتح اسلام " میں دعوئی مسیحیت فرمایا تو بعض بڑے بڑے عقیدت مندوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور ایمان متزلزل ہو گیا۔مگر آپ جو خدا کے مسیح کی شان مسیحائی پر پہلے ہی ایمان لاچکے تھے حضور کے دعوئی مسیحیت پر اور بھی پختہ ہو گئے۔آپ کے ایمان و اخلاص اور فہم و فراست کا ایک عجیب واقعہ یہ ہے کہ آپ کو تو رسالہ ”فتح اسلام " کی اشاعت کا علم تک نہیں تھا۔مگر ایک مولوی عطاء اللہ یہ کتاب اچھی طرح پڑھ کر لدھیانہ گیا۔آپ بھی ان دنوں لدھیانہ میں ہی تھے۔مولوی عطاء اللہ نے وہاں جا کر کئی لوگوں سے نہایت وثوق سے کہا کہ میں مولوی نور الدین صاحب کو مرزا صاحب سے ابھی الگ کر دوں گا۔پھر آپ کے پاس آیا اور پوچھا کہ ختم نبوت کے کیا معنی ہیں ؟ آپ نے اپنے اس زمانہ کے مسلک و عقیدہ کی روشنی میں مختصر سا جواب دیا۔اس نے کہا کہ اچھا اب اگر اس زمانہ میں کوئی شخص نبوت کا دعوی کرے تو اس کو آپ کیا سمجھیں گے۔آپ نے فرمایا کہ اگر وہ راستباز انسان ہے اور ہم نے اس کو راستباز مان لیا ہے پھر تو ہم کو کوئی دقت ہی نہیں کیونکہ ختم نبوت کے جو معنی وہ بتائے گا رہی ٹھیک ہوں گے۔۔۔۔آپ کا یہ کہنا تھا کہ وہ اٹھ کر چل دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مولوی نور الدین تو اب لا علاج ہو چکا ہے۔جن لوگوں نے حضرت اقدس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے تبادلہ خیالات کے دعوئی مسیحیت پر مخالفت کا طوفان اٹھایا ان میں سر فہرست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈووکیٹ اہلحدیث تھے جنہوں نے ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک گھوم پھر کر علماء سے فتاوی کفر لئے اور ان کو شائع کر کے ملک بھر میں حضور کے خلاف ایک آگ لگادی! مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتح اسلام" کے ابتدائی صفحات پڑھتے ہی ایک طرف تو حضور کو وہ خط لکھا جس کا ذکر تاریخ احمدیت حصہ دوم (صفحہ ۱۹۱) پر آیا ہے دوسری طرف حضرت مولوی صاحب سے طویل خط و کتابت شروع کر دی۔اور آپ کو مباحثہ کے لئے لکھا جس کے جواب میں آپ نے ۱۳ مارچ ۱۸۹۱ء کو لکھا کہ جناب والا کو خاکسار بہت مدت سے مرزا جی کے خلاف پر مستعد یقین کرتا ہے جناب سورج کے سامنے نجوم کے شعاع کو کون دیکھتا ہے ابھی مرزا زندہ ہیں۔میں آپ کے دعاوی اور علم سے ناواقف نہیں اور یہ امر اب پلک کے سامنے آگیا ہے اب پرائیویٹ خط و کتابت کو بند کیجئے۔میں لوگوں سے مباحثہ کروں مجھے اختیار ہے مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ میں آپ کی خدمت میں